ایران کا امریکی ٹیکنالوجی کمپنی پر حملہ ،ایف 35 جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ

پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے دبئی میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ حملہ گزشتہ روز کمال خرازی اور ان کی اہلیہ کے قتل کی کوشش کے جواب میں کیا گیا۔

تاہم دبئی انتظامیہ نے ایران کی جانب سے اوراکل کمپنی پر حملے کے دعوے کی تردید کی ہے۔

ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کمال خرازی زخمی ہوئے جبکہ ان کی اہلیہ ہلاک ہو گئیں۔

یہ کارروائیاں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئی ہیں، اس کے بعد کہ پاسدارانے انقلاب نے اس سے قبل امریکہ کی 18 بڑی ٹیکنالوجی اور صنعتی کمپنیوں کی ایک فہرست جاری کی تھی جن میں مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل، میٹا، انٹیل، آئی بی ایم، ٹیسلا اور بوئنگ شامل ہیں اور انھیں مشرقِ وسطیٰ میں اپنی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی دھمکی دی گئی تھی۔

پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’جیسا کہ ہم پہلے خبردار کر چکے تھے، ایرانی شخصیات کے قتل کے بدلے میں ہم اُن جاسوس ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کو نشانہ بنائیں گے جو دشمن کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی بنیاد ہیں۔۔۔

اس سے قبل بھی پاسدارانِ انقلاب یہ دعویٰ کر چکی ہے کہ اس نے بحرین میں ایمیزون کے ایک کلاؤڈ کمپیوٹنگ سینٹر کو نشانہ بنایا تھا۔

اس کے علاوہ ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی فضائی حدود میں ایک ایف 35 جنگی طیارے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے ایک اعلان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایف 35 جنگی طیارہ ’وسطی ایران کی فضاؤں میں‘ نشانہ بنائے جانے کے بعد ’گر کر تباہ‘ ہو گیا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اس جنگی طیارے کو ’پاسدارانِ انقلاب کے جدید فضائی دفاعی نظام‘ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ ’طیارے پر حملے کے وقت اور گرنے کے دوران شدید دھماکے کے باعث اس بات کا امکان کم ہے کہ پائلٹ باہر نکلنے میں کامیاب ہوا ہو۔‘

امریکی اور اسرائیلی افواج کی قیادت کی جانب سے تاحال اس خبر پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے کل ایران کے اس دعوے کی تردید کی تھی جس میں قشم جزیرے کے قریب ایک جنگی طیارہ مار گرانے کا کہا گیا تھا۔

اس سے تقریباً دو ہفتے قبل بھی ایران نے ایک ایف 35 جنگی طیارے کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا، جس پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ ’ایک امریکی ایف 35 جنگی مشن مکمل کرنے کے بعد ایران کے اوپر پرواز کے دوران کسی مسئلے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے ایک اڈے پر ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہوا تھا۔‘

Share this content: