پاکستان کے زیر اانتظام کشمیر ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ خطے میں مقیم افغان شہریوں کو بغیر قانونی کارروائی کے حراست میں لیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ایسے معاملات کو ریگولیٹ کرنے کے لیے فوری طور پر واضح قانونی طریقہ کار وضع کیا جائے۔
یہ فیصلہ جسٹس سید شاہد بہار کی جانب سے تحریر کیا گیا، جس میں تین یکساں نوعیت کی آئینی درخواستوں کو نمٹایا گیا۔ درخواستوں میں افغان شہریوں کو پولیس کی تحویل میں لینے اور ممکنہ جبری وطن واپسی کو چیلنج کیا گیا تھا۔
درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ وہ درست دستاویزات کے حامل ہیں اور کئی دہائیوں سے آزاد کشمیر میں قانونی طور پر مقیم ہیں، اس کے باوجود انہیں بغیر کسی قانونی جواز کے حراست میں لے کر فوری ملک بدری کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب حکومت نے اپنے جواب میں موقف اختیار کیا کہ افغان شہریوں کو ایک وسیع تر وطن واپسی پالیسی کے تحت احتیاطی اقدام کے طور پر حراست میں لیا جا رہا ہے، تاہم اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ زیر حراست افراد کے خلاف کوئی مخصوص فوجداری مقدمات درج نہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اگرچہ غیر ملکی شہریوں کو مستقل رہائش کا حق حاصل نہیں ہوتا، تاہم وہ اپنے قیام کے دوران قانونی تحفظ اور منصفانہ طریقہ کار کے حقدار ہیں۔ عدالت کے مطابق درست ویزا ایک محدود مگر قانونی حق فراہم کرتا ہے، اور اس کی مدت ختم ہونے سے قبل کسی بھی غیر ملکی کے خلاف کارروائی صرف مخصوص بنیادوں پر ہی کی جا سکتی ہے، جن میں دھوکہ دہی، ویزا شرائط کی خلاف ورزی یا امن عامہ کو لاحق خطرات شامل ہیں۔
ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ افغان شہریوں کی حراست اور ممکنہ بے دخلی سے متعلق فوری طور پر ایک شفاف اور قانونی فریم ورک تشکیل دے تاکہ بنیادی حقوق اور قانونی تقاضوں کو یقینی بنایا جا سکے۔
Share this content:


