تحریر: خواجہ کبیر احمد
پاکستان کے زیرا نتظام کشمیر کے متحرک عوامی تحریک جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا 30/31 مارچ ڈڈیال میرپور میں ہونے والے اجلاس کا اعلامیہ محض ایک رسمی اعلامیہ تک محدود نہیں بلکہ یہ درحقیقت ایک ایسے سیاسی و عوامی طوفان کا ابتدائی اشارہ ہے جو اگر اپنے منطقی انجام تک پہنچا تو پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی روائتی سیاست اور حکمرانی کے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دے گا۔
یہ اعلامیہ کئی حوالوں سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ سب سے پہلے تو اس میں انتخابات کے عمل کو براہ راست چیلنج نہیں کیا گیا بلکہ اس کے نام پر ہونے والی ممکنہ دھاندلی، غیر نمائندہ نشستوں اور آئینی نقائص کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ ایک نہایت اہم اور اسٹریٹیجک مؤقف ہے، کیونکہ اس سے یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی جمہوریت کے خلاف نہیں بلکہ جعلی جمہوریت کے خلاف کھڑی ہے۔
مہاجرین مقیم پاکستان کے نام پر قائم 12 نشستوں کو “ناجائز اور متنازعہ” قرار دینا دراصل اس پورے انتخابی ڈھانچے کی بنیاد پر سوال اٹھانا ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جو برسوں سے زیر بحث تو تھا، مگر پہلی بار اسے اس شدت، وضاحت اور اجتماعی قوت کے ساتھ عوامی سطح پر اٹھایا گیا ہے۔ اگر اس مطالبے کو نظرانداز کیا گیا تو آئندہ ہونے والے انتخابات کی ساکھ شروع دن سے ہی مشکوک ہو جائے گی۔
اعلامیہ کا دوسرا بڑا پہلو 4 اکتوبر 2025 کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کا ذکر ہے۔ یہ صرف ایک سیاسی الزام نہیں بلکہ حکمرانوں کی سنجیدگی، نیت اور عوامی وعدوں کے تقدس پر ایک فردِ جرم ہے۔ جب ایک طے شدہ معاہدہ پر ہی عمل نہ کیا جائے تو پھر مذاکرات، یقین دہانیاں اور سیاسی بیانات سب بے معنی ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں سے عوامی تحریکیں اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہوتی ہیں۔
31 مئی 2026 کی ڈیڈ لائن دراصل ایک فیصلہ کن لکیر کھینچتی ہے۔ اس کے بعد 9 جون کو اعلان کردہ لانگ مارچ محض ایک احتجاجی ریلی نہیں ہوگا بلکہ بھمبر میرپور سے مظفرآباد تک کا یہ مارچ اگر حقیقتاً عوامی شرکت کے ساتھ آگے بڑھا تو یہ اس خطے کی تاریخ کا ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
خاص طور پر غیر معینہ مدت کے لاک ڈاؤن اور اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس بار تحریک پہلے سے بہت مختلف بلکہ فیصلہ کن نوعیت کی ہو سکتی ہے۔ عوام کو ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کرنے کی ہدایت اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ قیادت اس جدوجہد کو طویل اور سخت مرحلے میں داخل کرنے جا رہی ہے۔
اعلامیہ میں ایک اور اہم پہلو ریاستی جبر، گرفتاریوں اور دوہرے معیار پر تنقید ہے۔ ایک طرف پرامن عوام پر فائرنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، جبکہ دوسری طرف صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کو پابند سلاسل کیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان ہے بلکہ ریاستی ترجیحات کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔جبکہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی یہ تحریک معاشی،سیاسی اور سماجی انصاف کی علمبردار ہے۔
اعلامیہ میں تعلیمی بورڈز کے فنڈز کی ممکنہ منتقلی پر تشویش اس امر کو ظاہر کرتی ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی علاقائی تقسیم کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے لیے تیار ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ اعلامیہ ایک واضح پیغام ہے کہ یا تواصلاحات، یا پھر بھرپور مزاحمت۔
اب گیند حکمرانوں کے کورٹ میں ہے۔ اگر انہوں نے اس موقع کو سنجیدگی سے نہ لیا تو یہ تحریک ایک ایسے عوامی ریفرنڈم میں بدل سکتی ہے جہاں سڑکیں، ایوانوں سے زیادہ طاقتور ہو جائیں گی۔
یہ صرف ایک اعلامیہ نہیں، بلکہ ایک انتباہ ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جب انتباہات کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو پھر انقلاب دروازہ توڑ کر داخل ہوتا ہے۔
٭٭٭
Share this content:


