پاکستانی کشمیر: رٹھوعہ ہریام پل 20 سال بعد تکمیل کے قریب، لاگت 1.3 ارب سے بڑھ کر 9.58 ارب تک پہنچ گئی

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع میرپور میں 2.975 کلو میٹر رٹھوعہ ہریام پل 20 سال بعد مکمل ہونے کے قریب ہے۔

سرکاری دستاوزات کے مطابق اس منصوبے کو 2014 میں مکمل ہونا تھا جو حال یعنی اپریل 2026 میں جا کر مکمل ہوا ہے ۔

آغاز میں اس منصوبے کا تخمینہ 1.3 ارب روپے تھا لیکن اس وقت یہ فروری 2024 میں پاکستان کی قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) نے اس پل کا تیسری بار 9 ارب 58 کروڑ 27 لاکھ روپے کا نظرثانی شدہ پی سی ون منظور ہوا ہے۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت اور واپڈا کے درمیان جون 2003 میں سہ فریقی معاہدہ ہوا تھا، جس کی شق نمبر دو کے تحت منگلا جھیل کی وجہ سے قریب کے دیہاتوں کے مابین فاصلوں کو مٹانے کے لیے رٹھوعہ بریام پل کو پلاننگ کمیشن آف پاکستان نے منظور کیا تھا۔

اس منصوبے سے میرپور شہر کو رٹھوعہ اسلام گڑھ، بریام، کوٹلی، خالق آباد چکسواری سے باہم ملایا جانا تھا۔

2003 میں منظور شدہ اس منصوبے پر 2011 میں کام شروع ہوا لیکن چار سال کی مدت میں 70 فیصد کام مکمل ہونے کے بعد کام بند کر دیا گیا۔

2019 میں سابق وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور نے کہا تھا کہ دسمبر میں خود رٹھوعہ ہریام پل پر گاڑی چلا کر دکھاوں گا علی امین تو یہ نہ پآۓ مگر تقریبا چھ سالگزرنے کے بعد علی امین کی یہ آشا موجودہ وقت کے وزیر امور کشمیر امیر مقام نے رٹھوعوہ ہریام پر گاڑی کے اوپر سے سفر و معائنہ کر کے پوری کر دی۔

Share this content: