پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافے کے بعد بڑی کمی کا اعلان

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافے کے بعد بڑی کمی کا اعلان کردیا گیا ہے۔

پاکستان کے وزارتِ توانائی کی تازہ دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت کا تقریباً 46 فیصد حصہ مختلف ٹیکسز، لیویز اور منافع جات پر مشتمل ہے، جس کے باعث شہریوں پر مالی بوجھ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ دستاویزات کے مطابق پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 247 روپے 15 پیسے ہے، جبکہ صارفین فی لیٹر مجموعی طور پر 211 روپے 26 پیسے تک ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق فی لیٹر پیٹرول پر 24 روپے 12 پیسے کسٹم ڈیوٹی، 7 روپے 52 پیسے ان لینڈ فریٹ مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا منافع اور 8 روپے 64 پیسے پمپ ڈیلرز کا کمیشن شامل ہے۔ اس کے علاوہ پیٹرولیم لیوی پہلے 160 روپے 61 پیسے فی لیٹر تھی، جس میں گزشتہ رات 80 روپے کمی کی گئی، تاہم کمی کے بعد بھی تقریباً 131 روپے ٹیکس بدستور وصول کیا جا رہا ہے۔ قیمت میں 2 روپے 50 پیسے کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی شامل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکسز مہنگائی میں اضافے اور عام آدمی کی قوتِ خرید میں کمی کا باعث بن رہے ہیں۔

اسی پس منظر میں وزیرِاعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں پیٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے۔

حکومت نے پیٹرول کی قیمت 458 روپے فی لیٹر سے کم کر کے 378 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں میں توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل کرنے کے بجائے حکومت نے 129 ارب روپے قومی وسائل سے برداشت کیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ عام آدمی پہلے ہی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے، اس لیے حکومت نے وقتی طور پر اضافی بوجھ خود اٹھایا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی سطح پر جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال میں بہتری آنے سے مستقبل میں قیمتوں میں مزید استحکام ممکن ہوگا۔

Share this content: