عالمی منڈی میں جمعے کے روز خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ سرمایہ کاروں کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہا۔
بین الاقوامی معیار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.66 ڈالر یعنی 1.6 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 104.24 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 1.11 ڈالر اضافے کے ساتھ 97.46 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
اگرچہ جمعے کے روز قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، تاہم ہفتہ وار بنیادوں پر دونوں اہم خام تیل بینچ مارکس میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں ہفتہ بھر کے دوران 4.6 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 7.6 فیصد کمی دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کی بنیادی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن معاہدے اور جوہری مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے۔ سرمایہ کار اس خدشے کا شکار ہیں کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ایران کی جانب سے تیل کی برآمدات میں اضافہ عالمی سپلائی کو بڑھا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید کمی آ سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے � کے مطابق ایک سینئر ایرانی ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بعض اہم معاملات پر اختلافات میں جزوی کمی آئی ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی مذاکرات میں “کچھ مثبت اشاروں” کا ذکر کیا ہے۔
تاہم دونوں ممالک کے درمیان ایران کے یورینیم ذخائر، جوہری پروگرام اور خلیج میں واقع اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ جیسے معاملات اب بھی بڑے اختلافی نکات تصور کیے جا رہے ہیں۔
Share this content:


