مظفرآباد: لیڈی ہیلتھ ورکرز کا احتجاجی مظاہرہ ، اسلام آباد لانگ مارچ کا عندیہ

مظفرآباد/کاشگل نیوز

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کے جاری احتجاج نے کئی ماہ گزرنے کے باوجود مطالبات کی عدم منظوری کے باعث مزید شدت اختیار کر لی ہے۔

عید کے روز بھی محکمہ صحت کی سینکڑوں خواتین ملازمین سڑکوں پر موجود رہیں اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہیں۔

خطے بھر میں تقریباً 3500 لیڈی ہیلتھ ورکرز گزشتہ دو ماہ سے بنیادی سہولیات، تنخواہوں میں بہتری اور سروس اسٹرکچر کی فراہمی کے مطالبات کے ساتھ سراپا احتجاج ہیں۔

احتجاج کا آغاز 6 فروری کو ہوا، جبکہ 6 مارچ کو مظاہرین نے سنٹرل پریس کلب کے سامنے سیکریٹریٹ جانے والی مرکزی شاہراہ پر دھرنا دے کر حکام کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔تاہم متعدد دھرنوں اور مظاہروں کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی، جس کے باعث ملازمین میں بے چینی اور غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔

پیر 6 اپریل کو احتجاج نے نیا رخ اختیار کیا، جب سینکڑوں لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اولڈ سیکریٹریٹ سے گھڑی پن چوک تک مارچ کیا۔

شرکاء نے حکومت مخالف نعرے لگائے اور وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز رٹھوار کو ان کے کیے گئے وعدے یاد دلائے۔

ہیلتھ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ اگر مطالبات فوری طور پر منظور نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا، جس میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ بھی شامل ہو سکتا ہے۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ وہ کئی برسوں سے اپنے جائز حقوق کے منتظر ہیں، مگر ہر بار یقین دہانیوں کے باوجود عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔

دوسری جانب حکومتی نمائندگان کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔

سول سوسائٹی اور مقامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مسائل کا فوری اور سنجیدہ نوٹس لیا جائے، تاکہ عید جیسے مواقع پر بھی خواتین ملازمین کو سڑکوں پر احتجاج کرنے کی نوبت نہ آئے۔

Share this content: