پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی کی یونین کونسل بڑالی میں واقع سنیارہ مہاجر کالونی ترقی کے دعوؤں کے برعکس آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ مرکزی پنڈی میرپور روڈ کے بالکل قریب ہونے کے باوجود یہ بستی سڑک جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے، جس کے باعث مکینوں کی روزمرہ زندگی شدید مشکلات کا شکار ہے۔
مقامی افراد کے مطابق علاقے میں پختہ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے آمدورفت ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ ایمرجنسی کی صورت میں مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنا انتہائی دشوار ہوتا ہے، جہاں شدید بیمار افراد کو چارپائیوں یا رسیوں کے ذریعے مرکزی سڑک تک پہنچایا جاتا ہے۔ اسی طرح اموات کی صورت میں جنازوں کی منتقلی بھی ایک کٹھن مرحلہ بن جاتی ہے۔
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال کوئی عارضی مسئلہ نہیں بلکہ کئی سالوں سے برقرار ہے، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی مؤثر عملی اقدام سامنے نہیں آیا۔ ان کا الزام ہے کہ بڑالی کے دیگر علاقوں میں بااثر قبائل کے لیے کئی کئی کلومیٹر طویل سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں، مگر سنیارہ کالونی مسلسل نظرانداز ہو رہی ہے۔
اہلِ علاقہ کے مطابق یہ بستی کوٹلی شہر سے محض 30 منٹ کی مسافت پر واقع ہے، اس کے باوجود یہاں بنیادی سہولتوں کا فقدان حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ یہ علاقہ چوہدری یاسین کے حلقہ انتخاب میں شامل ہے، جو اس وقت حکومت میں اہم عہدے پر بھی فائز ہیں۔
مزید برآں، مقامی سطح پر قائم بجلی گھر کی تعمیر کے وقت علاقہ مکینوں سے بنیادی سہولیات کی فراہمی کے وعدے کیے گئے تھے، تاہم رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے آج تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔ ان کے مطابق بجلی گھر تو بن گیا مگر مقامی آبادی آج بھی سڑک، نکاسی آب اور دیگر بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔
اہلِ علاقہ نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر سنیارہ کالونی میں سڑک کی تعمیر سمیت دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مقامی آبادی کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔
Share this content:


