پاکستان کے صوبہ سندھ میں سابق رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس کے بعد ان کے خلاف ایف آئی آرز کی تعداد تین ہو گئی ہے۔ تازہ مقدمہ 19 مارچ کو پولیس اسٹیشن جامشورو میں درج کیا گیا، جبکہ وزیر اس سے قبل ہی دو دیگر مقدمات میں دادو جیل میں زیرِ حراست ہیں۔
پولیس کے مطابق ایف آئی آر نمبر 84/2026 پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 324، 353، 341، 186، 147، 148، 149 اور 109 کے تحت درج کی گئی، جس میں اے ایس آئی طارق کاٹھیو مدعی ہیں۔ شکایت کے مطابق پولیس پارٹی نے جامشورو کے قریب گشت کے دوران 20 سے زائد افراد کو سڑک بلاک کیے اور احتجاج کرتے دیکھا، جن پر الزام ہے کہ وہ وزیر کی گرفتاری کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔
ایف آئی آر میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ جب پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے مزاحمت کی، اور کچھ افراد نے مبینہ طور پر فائرنگ بھی کی، جس کے بعد تمام افراد اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔
دوسری جانب علی وزیر کی قانونی ٹیم نے اس مقدمے کو "جھوٹا، بوگس اور من گھڑت” قرار دیتے ہوئے اسے ایک "گھوسٹ ایف آئی آر” کہا ہے۔ وکلاء کے مطابق یہ کیس بھی انہی الزامات اور بیانیے کو دہراتا ہے جو اس سے قبل درج دو ایف آئی آرز میں سامنے آئے تھے۔
واضح رہے کہ پہلی ایف آئی آر 16 مارچ کو دادو کے اے سیکشن تھانے میں درج کی گئی تھی، جس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت سنگین دفعات شامل کی گئی تھیں، جبکہ دوسری ایف آئی آر 17 مارچ کو بی سیکشن دادو میں درج ہوئی، جس میں پولیس پر حملے اور سرکاری کام میں مداخلت کے الزامات عائد کیے گئے۔
قانونی پیش رفت کے تحت، منگل کو وزیر کے وکیل امداد حیدر سولنگی نے جوڈیشل مجسٹریٹ جامشورو کی عدالت میں پیش ہو کر سماعت میں شرکت کی، جہاں کیس کی کارروائی 10 اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔
وکیل کے مطابق تیسری ایف آئی آر کو بھی سندھ ہائی کورٹ کے حیدرآباد سرکٹ بینچ میں آئینی درخواست کے ذریعے چیلنج کیا جائے گا۔ اس سے قبل عدالت پہلے ہی دو دیگر مقدمات کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے صوبائی حکام کو نوٹس جاری کر چکی ہے، اور کیس کی آئندہ سماعت 22 اپریل کو مقرر ہے۔
Share this content:


