پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9 جون کو دی جانے والی ہڑتال کی کال سے قبل سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) نے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس مراسلے میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مقامی سطح پر تعینات پولیس اہلکار ہڑتال کے دوران اپنے آبائی علاقوں میں فرائض کی انجام دہی کے دوران غیر جانبداری برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ مکتوب میں نشاندہی کی گئی ہے کہ برادری ازم، مقامی دباؤ اور سفارشی کلچر بعض اہلکاروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے، جس سے قانون نافذ کرنے کے عمل پر اثر پڑنے کا اندیشہ ہے۔
اسی تناظر میں ایس ایس پی نے تجویز دی ہے کہ سیکیورٹی کو غیر جانبدار اور مؤثر بنانے کے لیے افسران اور اہلکاروں کی عارضی طور پر بیرونِ ضلع تعیناتی عمل میں لائی جائے۔ مراسلے میں سفارش کی گئی ہے کہ ڈی ایس پیز اور انسپکٹرز کو اپنے ریجن سے باہر جبکہ سب انسپکٹرز، اے ایس آئیز اور کانسٹیبلز کو دیگر اضلاع میں تعینات کیا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ اثر و رسوخ کو کم کیا جا سکے۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات ماضی میں بھی حساس مواقع پر اختیار کیے جاتے رہے ہیں تاکہ مقامی دباؤ کو کم کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر جانبداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
تاہم، اس حوالے سے باضابطہ منظوری اور عملدرآمد کے لیے حتمی فیصلہ ڈی آئی جی کی جانب سے کیا جائے گا، جس کے بعد ہی تعیناتیوں کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کا امکان ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کے پیش نظر یہ مراسلہ انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ حالات سے نمٹنے کی پیشگی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
Share this content:


