بھارت: مطلوب پاکستانی ’لشکر کمانڈر‘ سمیت 5 عسکریت پسند کشمیر سے گرفتار

کشمیر کی پولیس کے کاوئنٹر انٹیلی جنس محکمے کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بین الریاستی ’ٹیرر موڈیول‘ کو بے نقاب کرنے اور اس سلسلے میں پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے خفیہ اطلاعات کی بنا پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے عبداللہ عرف ابوہریرہ کو 16 سال کی روپوشی کے بعد ان کے ایک پاکستانی ساتھی عثمان عرف خبیب کے ہمراہ ایک خفیہ آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان دونوں افراد کے کھانے پینے اور ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنے والے تین کشمیریوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ حراست میں لیے گئے کشمیریوں کی شناخت محمد نقیب بٹ، عادل رشید بٹ اور غلام محمد میر عرف ماما کے ناموں سے کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عبداللہ عرف ابو ہریرہ کالعدم عسکری تنظیم لشکر طیبہ کے انتہائی مطلوب کمانڈر ہیں جو طویل عرصے سے روپوش تھے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران عبداللہ نے کشمیر کےعلاوہ پنجاب، ہریانہ اور دوسری ریاستوں میں بھی خفیہ ٹھکانے قائم کیے تھے۔

منگل کے روز ہونے والے آپریشن کے دوران بیک وقت انڈیا کی چار ریاستوں میں 19 مقامات پر چھاپے مارے گئے۔

پولیس کے مطابق اس دوران چار اے کے-47 رائفلیں اور بھاری مقدار میں گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

پولیس کے مطابق سرینگر کے ایک شہری کی گرفتاری کے بعد اس گروپ کے بارے میں مصدقہ اطلاعات ملی تھیں جس کے بعد آپریشن شروع کیا گیا۔

ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ایک غیرملکی دہشت گرد نے انڈیا کے شہروں میں لشکر طیبہ نیٹ ورک کی مدد سے جعلی دستاویز بنا کر انڈیا سے باہر بھی سفر کیا ہے۔‘

کشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اس آپریشن کو ایک ’مثبت قدم‘ قرار دیا۔ تاہم ساتھ ہی انھوں نے تشویش ظاہر کی کہ ’اب بھی دہشت گرد دراندازی کر کے کشمیر میں داخل ہورہے ہیں۔‘

انھوں نے منگل کی شام جموں میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’یہ اچھی بات ہے کہ انھیں پکڑا گیا، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ لوگ آئے کہاں سے اور کیوں آئے؟‘

Share this content: