عوامی تحریک میں نئی صف بندی اور عوام دوست قوتوں کی پہچان ناگزیر۔۔۔الیاس کشمیری

عوامی تحریک میں کبھی ٹھہراؤ نہیں رہتا عوامی جڑت کی وجہ سے جلد ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے آگے سفر کرتی ہے۔

تحریکی پیش رفت میں حکمت عملی کیساتھ ہمیشہ صف بندیوں کا سوال جڑا ہوتا ہے، تحریک کے ہر مرحلے پر دیگر پہلوؤں کیساتھ نئی صف بندیوں کے پہلو کا گہرائی کیساتھ جائزہ بہت ضروری ہوتا ہے۔ اگر نئی صف بندیوں کا گہرائی کیساتھ جائزہ نہ لیا جائے تو ایسے موقع پرست جن کو تحریک کے ابتدائی مرحلے پر گنجائش دی جاتی جو اس مرحلے پر ضروری ہوتی ہے۔ لیکن اگلے مرحلے پر ان کو مزید گنجائش دینے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ موقع پرست تحریک کو حکمران طبقات کے مفاد میں استعمال کریں۔

پیپلز پارٹی کی حکومت آتے ہی ہم نے واضح کیا تھا کہ تحریک کی نئی صف بندیوں کا جائزہ لیا جائے اور موقع پرستوں کی گنجائش کو ختم کیا جائے چونکہ وہ حکومت کے مفاد میں تحریک کو استعمال کرنا شروع ہو گئے ہیں۔

تب دوستوں نے ہمارے موقف کو دلیل کیساتھ مسترد کرنے کے بجائے یہ پروپیگنڈا کیا کہ تحریک کو توڑنے کی سازش ہو رہی ہے۔ ہم نے تب بھی اعلانیہ کہا تھا اور آج بھی کہتے ہیں کہ اتحاد سے مراد عوام کا اتحاد ہے، دوست یہ غلط سمجھتے ہیں کہ حکمران طبقے کے سہولت کاروں اور عوام کے درمیان اتحاد عوامی یا تحریکی اتحاد ہوتا ہے۔

آج ہم پھر اعلانیہ واضح کرتے ہیں کہ ہم جس طرح طبقاتی صف بندی کو سمجھتے ہوئے قبل از وقت اس کی طرف توجہ دلا رہے تھے جس پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے موقع پرستوں کو گنجائش اور موقع ملا ہے ۔

آج پھر یہ کہتے ہیں کہ ہم عوام دشمن اور عوام دوست کے فرق کو سمجھتے ہوئے تحریک میں موجود ہیں۔ تحریک کے اندر عوام دوست عنصر کی کمزوریوں ،مصلحت پسندی پر نہ صرف تنقید رکھتے ہیں بلکہ مثبت اور بھر پور اپوزیشن دیتے ہیں اس تنقید اور اپوزیشن کا مقصد تحریک کی سمتوں کو درست کرنا ہوتا ہے ، اسے ہم جاری رکھیں گے۔

لیکن عوام دشمن قوتوں پر ہمارا واضح سٹانس تھا اور آج بھی ہے کہ انھیں تحریک سے باہر کیا جائے، اس کے لیے تحریک میں موجود عوام دوست قوتوں کو مصلحت کا شکار ہوئے بغیر اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس نسبت ہم مکمل اتحاد اور جڑت رکھتے ہیں۔ گو کہ ہمارے دوست عوام دشمن اور عوام دوست قوتوں کے تجزیے سے بالکل اسی طرح عاری ہیں جس طرح طبقاتی صف بندیوں کو سمجھنے میں تھے۔

لیکن ہم اس کے باوجود دوستوں پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ دوبارہ سے سوچیں گے دوبارہ سے تجزیہ کریں گے، پھر سے صف بندیوں کے سوال پر، اتحاد کے سوال پر ہمارے اور اپنے موقف کا دیانتداری کیساتھ جائزہ لیتے ہوئے آج کے جاری عمل میں پرکھیں گے۔

ہمیں تحریک کے پہلے مرحلے اور آج کے مرحلے میں فرق کا جائزہ لینا چاہیے، ترقی پسند دوست تھوڑا وسعت کیساتھ تحریک کے مختلف مراحل کا جدلیاتی جائزہ لینے کی کوشش کریں، جو ابتدائی مرحلے میں ضروری تھا آج وہ متروک ہو چکا ہے تو اسے گلے لگائے رکھنے کا غیر جدلیاتی عمل فائدہ مند بالکل نہیں ہو سکتا۔ جہاں نئے کی ضرورت ہے وہاں متروک شدہ پرانا رکھنے کی کوشش کمزور کرئے گی مضبوط نہیں کر سکتی۔

بہت آسان الفاظ میں کہ تحریک کے پہلے مرحلے پر عوام کو سرگرم کرنا ضروری تھا جس کے لیے کسی نظم و ضبط کی ضرورت نہ تھی بلکہ ڈھیلا ڈھالا کھلا کام رکھنا ضروری تھا۔ پھر ایک مرحلے پر عوام متحرک ہونے کیساتھ منظم ہوئے تو ادارے بنانے اور نظم و ضبط ضروری ہو گیا۔

حکمران طبقات نے اپنے سہولت کاروں کے ذریعے عوامی تحریک میں مداخلت کی تو طبقاتی صف بندیاں ضروری ہو گئیں ۔ اب جب حکمران طبقات اپنے کارندوں کے ذریعے تحریک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو عوام دوست اور عوام دشمن کی بنیاد پر بھرپور رکاوٹ دینے کی ضرورت ہے۔

دوستو !عوامی تحریک کو گہرائی سے دیکھنے اور پختہ مرحلے میں داخل کرنے کے لیے ری وزٹ ری تھینک کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں عوام پر بھروسہ ہے اور عوام دوستی کی بنیاد پر اتحاد ہمارا اصول ہے۔

٭٭٭

Share this content: