جنگ بندی کے بعد ایران میں حکومتی مظاہرے، توانائی مراکز کے گرد انسانی زنجیریں قائم

امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔ تہران میں لوگ ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی تصاویر اور قومی پرچم اٹھائے سڑکوں پر نکل آئے، جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں توانائی کے مراکز اور پلوں کے قریب حکومتی حمایت میں مظاہرے کیے گئے۔

بی بی سی فارسی کے واشنگٹن نامہ نگار خاشیار جنیدی کے مطابق ایران میں جنگ بندی پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایک جانب شہریوں کو یہ اطمینان ہے کہ بجلی گھروں اور اہم تنصیبات پر ممکنہ امریکی حملوں کا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے، جبکہ دوسری جانب حکومت کے ناقدین کو خدشہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد داخلی کریک ڈاؤن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے ایسی ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں درجنوں افراد کو مختلف پاور پلانٹس اور پلوں کے قریب ’انسانی زنجیریں‘ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ بی بی سی ویریفائی نے ان ویڈیوز کی تصدیق کی ہے، جن میں کازرون پاور پلانٹ (صوبہ فارس)،شہید رجائی پاور پلانٹ (صوبہ قزوین) اور دزفول اور اہواز کے پل (صوبہ خوزستان)شامل ہیں۔

یہ مظاہرے بظاہر امریکی دھمکیوں کے جواب میں حکومتی حمایت اور مزاحمت کے اظہار کے طور پر کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل ایرانی حکام نے شہریوں کو ترغیب دی تھی کہ وہ اہم تنصیبات کے گرد انسانی زنجیریں بنا کر انہیں ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنے میں کردار ادا کریں۔

ایران کے نائب وزیرِ نوجوانان و کھیل علی رضا رحیمی نے کہا کہ یہ مہم ’روشن مستقبل کے لیے ایرانی نوجوانوں کی انسانی زنجیر‘ کے نام سے پورے ملک میں منعقد کی گئی۔

سرکاری ایجنسی فارس کی جانب سے جاری ویڈیوز میں کازرون کے مشترکہ سائیکل پاور پلانٹ کے سامنے بڑی تعداد میں افراد کو انسانی زنجیر بناتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ایرانی حکومت کے ایک ٹیلیگرام اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین نے ’’امریکی اسرائیلی جارحیت‘‘ کی مذمت کی اور ملک کی مسلح افواج کی حمایت کا اعلان کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی حملے کو ’’جنگی جرم‘‘ قرار دیا جائے گا۔

ایک علیحدہ بیان میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایک کروڑ 40 لاکھ ایرانی ’’ملک کے دفاع کے لیے اپنی جان قربان کرنے‘‘ کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں، اور مزید افراد مخصوص نمبر پر پیغام بھیج کر شامل ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم تنصیبات کے گرد انسانی ڈھال بنانے کی رپورٹس پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’’مکمل طور پر غیر قانونی‘‘ قرار دیا ہے۔

جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جمعے سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے، جہاں ایران کے پیش کردہ 10 نکاتی ایجنڈے پر بات چیت ہوگی۔

Share this content: