ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک خفیہ فائل میں اس جگہ کا ذکر پہلی بار خاموش چیخوں کا مرکز کے نام سے ہوا تھا۔ مگر مقامی لوگ اسے اب بھی آزادی چوک ہی کہتے تھے۔
ایک ایسا چوک جہاں آوازیں مرتی نہیں تھیں، صرف شکلیں بدلتی تھیں ۔کبھی عورت کے روپ میں تو کبھی مرد کی شکل میں، کبھی مذہبی جماعت کی صورت میں ،کبھی سیاسی و عسکری تنظیموں کے روپ میں ،کبھی مومن کے حق میں ،کبھی مودی کے خلاف کہتے ہیں ۔
اس دن، جب دنیا عالمی یوم صحت منا رہی تھی، ایک عجیب ڈاکٹر اس چوک میں داخل ہوا۔ اس کے پاس نہ کوئی بڑی ڈگری تھی، نہ سفید کوٹ صرف ایک پرانی ڈائری اور آنکھوں میں ایسا سکون جیسے وہ شور کے بیچ خاموشی سن سکتا ہو۔
لوگ حسبِ معمول جمع تھے۔ کوئی بےروزگاری کے بخار میں جل رہا تھا، کسی کو انصاف نہ ملنے کی کھانسی تھی، کوئی مہنگائی کے درد سے کراہ رہا تھا کوئی محب وطنی ثابت کر رہا تھا تو کوئی غداری کا تمغا ملنے پر افسردہ کھڑا تھا ۔ مگر سب کی آواز ایک تھی:
ہائے ہائے ہائے
ہائے ہائے ہائے
ڈاکٹر نے کسی کو ہاتھ نہیں لگایا۔ وہ صرف چوک کے بیچ کھڑا ہو کر سنتا رہا۔ کچھ دیر بعد اس نے ڈائری کھولی اور لکھنا شروع کیا:
"مرض: اجتماعی بےحسی
علامات: چیخوں کا موسیقی میں بدل جانا
وجہ: مسلسل نظرانداز کیے جانے کا زہر”
ایک بزرگ اس کے قریب آیا، بولا
ڈاکٹر صاحب، کوئی دوا ہے؟
ڈاکٹر مسکرایا، مگر اس کی آنکھوں میں اداسی اتر آئی۔
دوا ہے مگر مریض وہ نہیں جنہیں تم دیکھ رہے ہو۔
پھر کون؟
ڈاکٹر نے آہستہ سے چوک کے کنارے لگے اس جیت کے نشان کی طرف اشارہ کیا، جو حکومت نے اپنی کامیابی کے طور پر نصب کیا تھا۔
اصل مریض وہ ہیں جو ان آوازوں کو سن کر بھی سن نہیں پاتے۔
چوک میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔ جیسے کسی نے پہلی بار سچ بول دیا ہو۔
اور علاج؟ کسی نے پوچھا۔
ڈاکٹر نے ڈائری بند کی، اور بولا:
علاج سادہ ہے… مگر مشکل بھی۔
پہلا نسخہ: سننا سیکھو
دوسرا نسخہ: جواب دینا چھوڑو، عمل شروع کرو
تیسرا نسخہ: طاقت کو خدمت میں بدلو، نمائش میں نہیں
لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ کچھ ہنسے، کچھ نے کندھے اچکا دیے۔ کیونکہ انہیں یقین تھا یہ نسخہ کسی میڈیکل اسٹور پر نہیں ملے گا۔
اگلے ہی لمحے، ڈاکٹر غائب تھا۔
بس اس کی ڈائری کا ایک صفحہ چوک کے بیچ اڑتا ہوا گرا، جس پر آخری جملہ لکھا تھا:
جب چیخیں موسیقی سرکاروں کے لیے موسیقی بن جائیں تو سمجھ لو بیماری لاعلاج نہیں… بس نظام بےحس ہو چکا ہے۔”
٭٭٭
Share this content:


