قلم، قانون اور ذمہ داری۔۔۔اقبال بجاڑ

“جب سوال جرم بن جائے تو خاموشی سب سے بڑا خطرہ بن جاتی ہے”

ریاستی نظم و ضبط اور آزادیٔ اظہار کے درمیان توازن کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ یہی توازن اس وقت زیرِ بحث آتا ہے جب ویلاگر اور صحافی عدنان راوٹ جیسے افراد کے خلاف مختلف قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہو اور معاملہ تفتیش کے مراحل سے گزر رہا ہو۔ حالیہ نوعیت کے کیسز میں PPC 153-A، PPC 505، PPC 117 کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ جیسے قوانین کا اطلاق ایک حساس بحث کو جنم دیتا ہے۔

یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ قانون کا احترام ہر شہری پر لازم ہے اور کسی بھی مقدمے کا حتمی فیصلہ عدالتوں نے ہی کرنا ہوتا ہے۔ تاہم یہ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ کسی بھی فرد، بالخصوص ایک صحافی، کو اس کے پیشے اور اظہارِ رائے کے تناظر میں دیکھا جائے۔ ویلاگر اور صحافی عدنان راوٹ کا معاملہ بھی اسی زاویے سے توجہ کا متقاضی ہے، جہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا ان کی سرگرمیاں صحافتی دائرہ کار میں آتی ہیں یا انہیں کسی اور انداز میں تعبیر کیا جا رہا ہے۔

صحافت کا بنیادی مقصد معلومات کی فراہمی اور عوامی شعور کو اجاگر کرنا ہے۔ اس تناظر میں اگر کوئی صحافی کسی معاملے پر اپنی رائے دیتا ہے یا رپورٹنگ کرتا ہے تو اسے فوری طور پر اشتعال انگیزی یا خوف پھیلانے کے تناظر میں دیکھنا ایک حساس معاملہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں توازن اور احتیاط دونوں ضروری ہو جاتے ہیں۔

ویلاگر اور صحافی عدنان راوٹ کی گرفتاری اور طویل جسمانی ریمانڈ نے میڈیا حلقوں میں تشویش کو جنم دیا ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف ایک فرد کو متاثر کرتے ہیں بلکہ مجموعی طور پر صحافتی ماحول پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اگر صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوں تو اس کے اثرات عوام تک معلومات کی ترسیل پر بھی پڑتے ہیں۔

دوسری جانب یہ بھی ضروری ہے کہ ہر کیس کو اس کے شواہد اور حقائق کی بنیاد پر دیکھا جائے۔ عدالتوں اور تفتیشی اداروں کو اپنا کام کرنے کا موقع دینا انصاف کے تقاضوں میں شامل ہے۔ تاہم اس عمل کے دوران بنیادی حقوق اور آزادیٔ اظہار کے اصولوں کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے کو برداشت کرنا اور اسے ایک تعمیری بحث میں تبدیل کرنا ہی ترقی کی علامت ہوتا ہے۔ ایسے میں ویلاگر اور صحافی عدنان راوٹ جیسے کیسز ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم بطور معاشرہ اظہارِ رائے اور قانون کے درمیان توازن کیسے قائم کر رہے ہیں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ قانون کی بالادستی اور آزادیٔ اظہار دونوں ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک متوازن نظام کے دو اہم ستون ہیں۔ اگر ان کے درمیان ہم آہنگی قائم رکھی جائے تو نہ صرف انصاف مضبوط ہوتا ہے بلکہ معاشرہ بھی زیادہ باشعور اور مستحکم بنتا ہے۔

٭٭٭

Share this content: