تحریر: دانش منظور
مشرقِ وسطیٰ کی فضا ایک بار پھر غیر یقینی کے بوجھ تلے دبتی محسوس ہو رہی ہے۔ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ امریکہ خارگ جزیرے کو ممکنہ ہدف کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ خارگ جزیرہ جو بظاہر ایک معمولی ٹکڑا ہے مگرحقیقت میں یہ ایران کی معاشی شہ رگ ہے۔ دنیا کے نقشے پر کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جو اپنے حجم میں بالکل مختصر مگر اپنے اثر میں نہایت وسیع ہوتے ہیں۔ خارگ جزیرہ بھی انہی میں سے ایک ہے۔ خلیج فارس کے نیلگوں سینے پر ابھرا ہوا ایک خاموش جزیرہ جو بظاہر ایک سادہ خطۂ ہے مگر حقیقت میں عالمی معیشت اور سیاست کی ایک زندہ شہ رگ ہے۔ یہ خلیج فارس کا ایک نہایت اہم اور اسٹریٹجک جزیرہ ہے جو جغرافیہ معیشت اور عالمی سیاست تینوں حوالوں سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
یہ جزیرہ ایران کے جنوبی ساحل کے قریب خلیج فارس میں واقع ہے۔ ایران کے صوبہ بوشہر کے ساحل سے تقریباً 25 کلومیٹر دور ہے اور یہ جزیرہ خلیج فارس کے اہم بحری راستوں کے قریب واقع ہے۔ جزیرہ خارگ ایران کی معیشت کا دل سمجھا جاتا ہے۔ ایران کی بڑی مقدار میں تیل کی برآمدات یہیں سے ہوتی ہیں۔ یہاں بڑے بڑے آئل ٹرمینلز اور ذخیرہ کرنے کی سہولیات موجود ہیں۔ ایران کی تیل کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ 90٪ تک اسی جزیرے سے گزرتا رہا ہے۔ اس لیے اگر خارگ متاثر ہو جائے تو ایران کی معیشت ہل کر رہ جائے گی۔
اس کی اسٹریٹجک اور عسکری اہمیت یہ بھی ہے کہ یہ جزیرہ خلیج فارس کے انتہائی حساس علاقے میں واقع ہے۔ عالمی توانائی سپلائی کے قریب ہے۔ آبنائے ہرمز کے قریب ہونے کی وجہ سے اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے اور یہ عالمی طاقتوں کی نظر میں ہمیشہ ایک اہم ہدف رہا ہے۔ 1980–1988 کی ایران عراق جنگ کے دوران عراق نے بار بار خارگ جزیرے پر حملے کیے جس کا مقصد یہ تھا کہ ایران کی تیل برآمدات کو روکا جائے۔ اس دور میں بھی خارگ جزیرہ جنگ کا مرکزی ہدف بن گیا تھا۔
اگر اس جزیرے کی تاریخ کے اوراق الٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی طرح خارگ جزیرہ بھی کوئی نیا دریافت شدہ مقام نہیں ہے۔ یہ قدیم زمانوں سے تجارتی اور تہذیبی آمد و رفت کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ اہلِ یونان کے تذکروں سے لے کر ساسانی عہد تک اس جزیرے کا ذکر ایک ایسے پڑاؤ کے طور پر ملتا ہے جہاں قافلے ٹھہرتے جہاز لنگر انداز ہوتے اور مشرق و مغرب کے درمیان خاموش سوداگری جاری رہتی تھی۔ آثارِ قدیمہ کی صورت میں یہاں آج بھی وہ نقوش ملتے ہیں جو اس کے قدیم تمدنی ربط کی گواہی دیتے ہیں۔ تو گویا خارگ ایک جزیرہ ہی نہیں یہ وقت کے سفر کا ایک زندہ حوالہ بھی ہے۔
خارگ جزیرے کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ خود ایران کا بہت بڑا آئل فیلڈ نہیں ہے یہ ایران کے مختلف آئل فیلڈز سے آنے والے تیل کا مرکزی برآمدی مرکز ہے۔ ایران کے جنوبی علاقے سے تیل پائپ لائنز کے ذریعے خارگ لایا جاتا ہے یہاں اسے ذخیرہ کیا جاتا ہے پھر بڑے بحری جہازوں میں لوڈ کر کے دنیا بھر بھیجا جاتا ہے۔ ایران کی تیل برآمدات کا بڑا حصہ تاریخی طور پر اسی جزیرے سے ہوتا رہا ہے۔ خارگ وہ دروازہ ہے جہاں سے ایران کی معیشت دنیا سے ہمکلام ہوتی ہے۔
کچھ دفاعی تجزیہ نگاروں سے سننے میں آ رہا ہے کہ امریکہ اس پر حملے یا قبضے کے آپشن پر غور کر رہا ہے۔ حالیہ بیانات میں امریکی قیادت نے واضح دھمکیاں بھی دی ہیں کہ اگر معاملات طے نہ ہوئے تو ایران کے توانائی ڈھانچے خصوصاً خارگ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اگر یہ حملہ واقعی ہوتا ہے تو اس کے نتائج بہت خطرناک ہوں گے۔ خارگ جزیرہ ایران کی معیشت کا دل ہے۔ ایران کی بڑی مقدار میں تیل برآمدات اسی جزیرے سے ہوتی ہیں۔ اگر خارگ تباہ یا قبضہ ہو جائے تو ایران کی تیل برآمدات شدید متاثر ہوں گی۔ ایرانی حکومت کی آمدنی گر جائے گی۔ داخلی معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ ایران کو ختم نہیں کرے گا لیکن جنگ کو اور شدید کرے گا۔ اگرچہ کچھ حلقے اسے آسان ہدف کہتے ہیں مگر حقیقت مختلف ہے۔ امریکی حملے کی صورت میں فوجی مزاحمت یقینی ہے۔ جزیرے پر پہلے بھی حملے ہو چکے ہیں مگر مکمل کنٹرول حاصل نہیں ہوا۔ ماہرین کے مطابق قبضہ ممکن ہے مگر اس پر hold کرنا مشکل ہوگا۔ اگر خارگ پر حملہ ہوتا ہے تو یہ صرف ایران کا مسئلہ نہیں رہے گا۔ خارگ پر حملے کی دھمکی سے ہی تیل کی قیمتیں بڑھ چکیں ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس سے گلوبل سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر حملہ ہوا تیل $200 فی بیرل تک جا سکتا ہے۔ اگر خارگ پر حملہ ہوا تو شاید یہ ایک فوجی کارروائی ہو مگر اس کے اثرات فوجی حدود سے کہیں آگے جائیں گے۔ یہ ایران کی معیشت پر وار ضرور ہوگا مگر اس کی اصل قیمت پوری دنیا ادا کرے گی۔ اس لیے اگر امریکہ نے یہ قدم اٹھایا تو کیا دنیا ایک اور خلیجی آگ کو برداشت کر پائے گی کیونکہ ایسی آگ صرف سرحدوں کو نہیں جلاتی مگر معیشتوں راستوں اور مستقبل کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
تاہم ان تمام خدشات کے باوجود ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جدید عالمی سیاست میں ہر فوجی نقل و حرکت جنگ کا پیش خیمہ نہیں ہوتی۔ اکثر اوقات یہ طاقت کا اظہار دباؤ بڑھانے اور مذاکرات میں برتری حاصل کرنے کی حکمتِ عملی بھی ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ خارگ کے گرد یہ ساری سرگرمی اسی نفسیاتی جنگ کا حصہ ہو جہاں اصل ہدف میدانِ جنگ کی بجائے میز پر مذاکرات ہوں۔ شاید یہ خطہ ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک فیصلہ چاہے وہ حملہ ہو یا دباؤ دونوں صورتوں میں دور رس اثرات رکھتا ہے۔ اور اگر یہ نفسیاتی دباؤ ہے تو بھی یہ ایک خطرناک کھیل ہے کیونکہ بعض اوقات جنگیں ارادوں کے بجائے غلط اندازوں سے شروع ہوتی ہیں۔ ایک چنگاری پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے تو لیتی ہے مگر اسے بجھانے میں دہائیاں لگ سکتیں ہیں۔
لہذا جب ہم خارگ جزیرے کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ ایک جزیرہ نظر نہیں آتا بلکہ یہ تاریخ طاقت معیشت اور انسان کے اجتماعی فیصلوں کا ایک ایسا سنگم دکھائی دیتا ہے جہاں ایک قدم کی لغزش صدیوں پر محیط اثرات کو جنم دے سکتی ہے۔ جنگیں کبھی صرف بارود اور فولاد کا تصادم نہیں ہوتیں۔ یہ جنگیں انسانی عقل کی آزمائش بھی ہوتی ہیں وہ لمحہ جب قومیں یہ طے کرتی ہیں کہ وہ اپنے اختلافات کو آگ میں بدلیں گی یا فہم میں۔ خارگ کا معاملہ بھی اسی نوعیت کا ہے بظاہر ایک محدود جغرافیہ مگر اپنے اندر پوری دنیا کی معاشی سانسوں کو سمیٹے ہوئے۔ اگر اس جزیرے پر ضرب لگتی ہے تو یہ کسی ایک ریاست کے ڈھانچے پر نہیں مگر یہ اس نازک توازن پر حملہ ہوگا جس پر جدید دنیا کی معیشت تجارت اور استحکام قائم ہے۔ اور تاریخ ہمیں بارہا یہ سکھا چکی ہے کہ جب توازن ٹوٹتا ہے تو اس کی بازگشت صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتی ہے۔ یہ نسلوں کے شعور میں اتر جاتی ہے۔
دانش مندی شاید اسی میں ہے کہ انسان اپنی طاقت کے نشے میں یہ نہ بھولے کہ ہر فتح اپنے اندر ایک نئی شکست کا بیج بھی رکھتی ہے۔ بعض اوقات سب سے بڑی کامیابی کسی علاقے پر قبضہ نہیں بلکہ ایک تصادم کو جنم لینے سے روک دینا ہوتی ہے۔ شاید یہی وہ مرحلہ ہے جہاں سیاست کو حکمت میں اور طاقت کو بصیرت میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ بعض فیصلے صرف سرحدیں نہیں بدلتے وہ دنیا کے مستقبل کا رخ متعین کرتے ہیں اور خارگ جزیرہ اپنے سکوتِ معنی خیز میں گویا اہلِ خرد کو یہ پیام دے رہا ہے کہ ہر جنگ جیتنے کے لیے نہیں ہوتی کچھ جنگیں نہ لڑنا ہی انسانیت کی اصل فتح ہوتی ہیں۔‘
٭٭٭
Share this content:


