جنگیں: خوفناک تباہی یا منافع بخش کاروبار؟ ۔۔۔ طاہر نذیر

دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جنگیں ہمیشہ انسانیت کے لیے تباہی، بربادی اور دکھوں کا سبب بنی ہیں۔ لاکھوں جانوں کاضیاع، شہروں کی ویرانی اور معیشتوں کی تباہی جنگوں کا لازمی نتیجہ رہی ہیں۔ لیکن اس تلخ حقیقت کے ساتھ ایک اور پہلو بھی جڑا ہوا ہے جسے Vladimir Lenin نے بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا۔

اس کے مطابق جنگیں جہاں عام انسان کے لیے خوفناک ہوتی ہیں، وہیں سرمایہ دار طبقے کے لیے غیر معمولی منافع کا ذریعہ بھی بن جاتی ہیں۔

لینن نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف Imperialism, the Highest Stage of Capitalism میں اس نظریے کو تفصیل سے پیش کیا۔

اس کے مطابق جدید جنگیں محض دفاع یا نظریاتی اختلافات کی بنیاد پر نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے بڑے معاشی مفادات کارفرما ہوتے ہیں۔ طاقتور ممالک اپنی صنعتوں، وسائل اور منڈیوں کو وسعت دینے کے لیے جنگوں کا سہارا لیتے ہیں۔

جنگ کے دوران اسلحہ سازی کی صنعت تیزی سے ترقی کرتی ہے۔ اسلحہ بنانے والی کمپنیاں اربوں ڈالر کماتی ہیں جبکہ تیل، گیس اور دیگر قدرتی وسائل پر قبضہ حاصل کرنے کی دوڑ بھی تیز ہو جاتی ہے۔ یوں ایک طرف عام لوگ جان و مال سے ہاتھ دھوتے ہیں تو دوسری طرف چند طاقتور حلقے اپنی دولت میں بے پناہ اضافہ کرتے ہیں۔ یہی وہ تضاد ہے جسے لینن نے سرمایہ دارانہ نظام کی ایک بنیادی خرابی قرار دیا۔

مزید برآں، جنگیں نہ صرف فوری منافع کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ بعد از جنگ تعمیرِ نو کے نام پر بھی بڑی بڑی کمپنیاں فائدہ اٹھاتی ہیں۔ تباہ حال ممالک میں انفراسٹرکچر کی بحالی، تعمیرات اور وسائل کی تقسیم میں بیرونی طاقتیں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور یوں ایک نیا معاشی انحصار پیدا ہو جاتا ہے۔

آج کے دور میں بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا واقعی جنگیں صرف قومی مفادات کے لیے لڑی جاتی ہیں یا ان کے پیچھے معاشی طاقتوں کا عمل دخل زیادہ ہوتا ہے؟ مختلف عالمی تنازعات کو دیکھتے ہوئے یہ بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

ناقدین کے مطابق جدید جنگیں اکثر بالواسطہ طور پر اقتصادی مفادات کے گرد گھومتی ہیں، جہاں طاقتور ممالک اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے میدانِ جنگ کا انتخاب کرتے ہیں۔

آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جنگ بلاشبہ انسانیت کے لیے ایک المیہ ہے، لیکن اس کے سائے میں پروان چڑھنے والے معاشی مفادات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری نہ صرف جنگوں کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے بلکہ ان عوامل کا بھی جائزہ لے جو جنگ کو ایک منافع بخش کاروبار بنا دیتے ہیں۔ تبھی ایک پُرامن اور منصفانہ دنیا کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

٭٭٭

Share this content: