لبنان میں رات بھر جھڑپیں ،حزب اللہ کا اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

لبنان میں رات بھر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تازہ جھڑپیں ہوتی رہیں جس کے دوران ایران نے لبنان پر فضائی حملے کیے جبکہ مسلح گروہ کی جانب سے اسرائیل کی جانب راکٹ داغے گئے جس کے باعث تل ابیب سمیت کئی علاقوں میں ہنگامی الرٹس جاری کیے گئے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی معاہدے میں لبنان کی مبینہ حیثیت تنازع کا باعث بن رہی ہے اور اس سے رواں ہفتے کے آخر میں پاکستان میں ہونے والے طے شدہ امن مذاکرات سے پہلے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے رات بھر لبنان میں ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں سے اس کے مطابق حزب اللہ راکٹ داغ رہا تھا۔

دوسری جانب ایران کی حمایت یافتہ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل کے متعدد علاقوں پر راکٹ فائر کیے ہیں۔

یہ تازہ جھڑپیں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں اسرائیل کی جانب سے لبنان میں کارروائیوں میں کمی لانے کا عندیہ دیا تھا۔

بدھ کے روز اسرائیل کے لبنان پر حملوں میں 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی پر نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک بیان نشر کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اپنے ملک اور کے اتحادیوں پر حملوں کا ’بدلہ لینے کا حق محفوظ‘ رکھتے ہیں۔

حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز نے جمعے کے روز علی الصبح اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ پر حملہ کیا ہے۔

مسلح تنظیم کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کو جنوبی لبنان کے قصبے الخیام کے نزدیک نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے اس بارے میں تاحال کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

Share this content: