پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں منعقد ہونے والے نیشنل جرنلسٹس کنونشن کے اعلامیے میں پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے انھیں ایک ’سیاہ قانون‘ قرار دیا گیا ہے، جسے خاص طور پر صحافیوں کو زبردستی دبانے اور پاکستان کے میڈیا کے منظرنامے کو کچلنے کی سہولت کاری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان تمام قوانین پر نظرثانی کرے جو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 19 کے منافی ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ہم حکومت کے اس پختہ وعدے کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہیں کہ ان قوانین کو کبھی بھی پریس کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔‘
اعلامیے کے مطابق ’ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ حکام نے اس کے بجائے عدالتی ہراسانی کی مہم کو تیز کر دیا ہے، جس میں صحافیوں کو پروازوں سے من مانے طریقے سے اتارنا اور بیرونِ ملک پیشہ ورانہ سفر پر پابندیاں لگانا شامل ہے، جس سے خوف اور دھمکیوں کا ایک ہمہ گیر ماحول پیدا ہو رہا ہے۔‘
یہ کنونشن میڈیا مالکان کی جانب سے جاری جبری برطرفیوں اور جان بوجھ کر پیدا کردہ ملازمت کے عدم تحفظ پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے، خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا کے شعبے میں جہاں بغیر کسی جواز کے چھانٹیاں کی جا رہی ہیں۔ اعلامیے کے مطابق اس صورتحال میں ریکارڈ مہنگائی کے باعث سینکڑوں پیشہ ور افراد بے روزگار ہو رہے ہیں۔
کنونشن نے اعلان کیا کہ ’ہم ان بڑے پیمانے پر ہونے والی برطرفیوں کو میڈیا کو حکومتی اداروں کے کنٹرول میں لانے کا ایک منظم منصوبہ قرار دیتے ہیں۔ ہم مزید برآں ویج بورڈ اور قومی لیبر قوانین کو بائی پاس کرنے اور ’سیٹھ مافیا‘ کے مفادات کو پورا کرنے کے حربے کے طور پر تھرڈ پارٹی ہائرنگ متعارف کرانے کی مذمت کرتے ہیں۔‘
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ کنونشن صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ملازمت کے بنیادی حقوق، بشمول ہیلتھ انشورنس، گریجویٹی اور ای او بی آئی رجسٹریشن و فوائد سے محروم رکھنے کی سخت مذمت کرتا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ایسا انکار محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ کارکنوں کے وقار، تحفظ اور قانونی حقوق کی دانستہ خلاف ورزی ہے۔ ’ہم الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا میں کام کرنے والے صحافیوں، میڈیا ورکرز اور ٹیکنیشنز کی ملازمتوں کے تحفظ کے لیے پارلیمانی ایکٹ کے ذریعے ایک واضح ایمپلائمنٹ اسٹرکچر کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ’یہ کنونشن حکومتی پالیسی پر سنگین تشویش کا اظہار کرتا ہے جس کے تحت سرکاری اشتہارات کو اداریہ کے مواد پر اثر انداز ہونے اور غیر رسمی ’پریس ایڈوائس‘ کے ذریعے سنسرشپ نافذ کرنے کے لیے مالی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر روزنامہ ڈان اس پالیسی کا شکار ہے۔ اسے نہ صرف سرکاری اشتہارات سے محروم کیا جا رہا ہے بلکہ ایسی صورتحال کا بھی سامنا ہے جس میں نجی کارپوریٹ سیکٹر کو اشتہارات روکنے کے لیے آمادہ کیا جا رہا ہے۔‘
اعلامیے کے مطابق ’ہم اشتہاری فنڈز کے اجرا یا سرپرستی کو میڈیا ہاؤسز کی انتظامیہ کو مخصوص صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی خدمات ختم کرنے سے مشروط کرنے میں حکومت کے کردار کی خاص طور پر مذمت کرتے ہیں۔‘
کنونشن نے مطالبہ کیا ہے کہ پیکا کے تحت صحافیوں کے خلاف تمام مقدمات فوری اور غیر مشروط طور پر واپس لیے جائیں اور قانونی فریم ورک کا شفاف جائزہ لیا جائے تاکہ اسے سیاسی انتقام کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔
’ہم مزید برآں تمام بقایا جات اور تنخواہوں کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہیں اور یہ اصرار کرتے ہیں کہ معاشی جبر میڈیا کی آزادی پر براہِ راست حملہ ہے۔‘
یہ کنونشن آٹھویں ویج بورڈ ایوارڈ کے فوری نفاذ کا بھی مطالبہ کرتا ہے تاکہ کارکنوں کے معاشی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ’ہم نویں ویج بورڈ ایوارڈ کے عمل کو شروع کرنے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں جس میں پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا شامل ہونا چاہیے۔‘
کنونشن نے مزید مطالبہ کیا کہ تمام میڈیا ہاؤسز صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو بغیر کسی امتیاز یا تاخیر کے ہیلتھ انشورنس، گریجویٹی اور ای او بی آئی رجسٹریشن و فوائد فراہم کریں۔ اعلامیے کے مطابق یہ قانونی حقوق اور ضروری تحفظات ہیں، نہ کہ مالکان کی صوابدید پر دیے جانے والے احسانات۔
ان حقوق سے انکار کو لیبر قوانین اور انسانی وقار کی خلاف ورزی قرار دیا جانا چاہیے۔ ’ہم میڈیا مالکان پر زور دیتے ہیں کہ وہ انسانی وقار کا احترام کریں اور کم تنخواہ پانے والے عملے کے حقوق کو ترجیح دیں۔‘
اعلامیے کے مطابق یہ کنونشن آئی ٹی این ای کے چیئرمین کے تقرر کو سراہتا ہے اور امید ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ سربراہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے زیرِ التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کو ترجیح دیں گے۔
’ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ صحافت کوئی جرم نہیں ہے اور حکومت سچ بولنے والوں کو خاموش، ہراساں یا قید کر کے سچ کو نہیں دبا سکتی۔‘
کنونشن نے میڈیا برادری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک فعال جمہوریت کے لیے اظہارِ رائے کا تحفظ اور صحافیوں و میڈیا ورکرز کا معاشی تحفظ ناقابلِ سمجھوتہ ہیں۔
Share this content:


