میونسپل کارپوریشن مظفرآباد کی کتا مار مہم میں زہر دینے پر تشویش

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے آوارہ کتوں کے خلاف دوبارہ کتا مار مہم شروع کر دی گئی ہے، جس کے تحت مختلف علاقوں میں زہر دے کر درجنوں کتوں کو ہلاک کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق بلدیہ حکام نے شہری علاقوں میں بڑھتے ہوئے آوارہ کتوں کی تعداد اور ڈاگ بائٹ کے واقعات کے پیش نظر یہ مہم شروع کی ہے۔ ماضی میں بھی اس نوعیت کی کارروائیاں کی جا چکی ہیں، تاہم حالیہ مہم نے ایک مرتبہ پھر جانوروں کے حقوق اور متبادل انتظامات سے متعلق بحث چھیڑ دی ہے۔

بعض سماجی اور شہری حلقوں نے آوارہ کتوں کو زہر دے کر مارنے کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ عمل غیر انسانی ہے اور اس کے بجائے جدید اور محفوظ طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ ناقدین کے مطابق ضلعی انتظامیہ کو آوارہ کتوں کے لیے الگ ڈاگ شیلٹر یا ڈاگ سنٹر قائم کرنا چاہیے جہاں ان جانوروں کی دیکھ بھال اور نگرانی ممکن ہو سکے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کی آبادی پر قابو پانے کے لیے مستقل بنیادوں پر ویکسینیشن اور نس بندی پروگرام شروع کیے جائیں تاکہ ان کی تعداد میں قدرتی طور پر کمی لائی جا سکے۔ ان کے مطابق کئی ممالک میں یہی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے جس سے نہ صرف انسانی جانوں کا تحفظ ممکن بنتا ہے بلکہ جانوروں کے ساتھ غیر ضروری ظلم سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب عوامی سطح پر آوارہ کتوں کے حملوں اور ڈاگ بائٹ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ گزشتہ برس ضلع باغ کے ایک سرکاری ہسپتال میں کتے کے کاٹنے کے ایک ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد شہریوں نے انتظامیہ سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد شہری آبادی کے لیے صحت عامہ کا مسئلہ بن سکتی ہے، تاہم اس مسئلے کے حل کے لیے عالمی سطح پر اپنائے جانے والے انسانی اور سائنسی طریقہ کار کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ عوامی تحفظ اور جانوروں کی فلاح دونوں کو یقینی بنایا جا سکے۔

Share this content: