پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کے ضلع راولاکوٹ سے ایک شخص کی گرفتاری کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بارے میں پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی” را "سے ہے۔
حکام کے مطابق گرفتار شخص کا نام عرفان بتایا جا رہا ہے، جس نے ایک ویڈیو بیان میں اپنے مبینہ روابط کا اعتراف کیا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کے انسپکٹر جنرل نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ سکیورٹی اداروں نے مشترکہ کارروائی کے دوران ملزم کو حراست میں لیا، اور ابتدائی تحقیقات میں اہم شواہد سامنے آئے ہیں۔
حکام کے مطابق کیس حساس نوعیت کا ہے اور مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
پولیس کے مطابق ویڈیو بیان میں عرفان نے دعویٰ کیا کہ اس کے بیرون ملک موجود افراد سے رابطے تھے اور وہ سوشل میڈیا کے ذریعے معلومات کا تبادلہ کرتا رہا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ بعض معلومات فراہم کرنے کے بدلے اسے مالی فائدہ دیا جاتا تھا۔
پریس بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملزم نے اپنے ان روابط کو "غلطی” قرار دیتے ہوئے ندامت کا اظہار بھی کیا۔
تاہم مقامی ذرائع اور بعض حلقوں نے اس گرفتاری پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔
ان کے مطابق ماضی میں بھی اس نوعیت کے متعدد دعوے کیے گئے جو وقت گزرنے کے ساتھ بغیر کسی ٹھوس نتیجے کے ماضی کا حصہ بن گئے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کو بعض اوقات "وقتی رائے عامہ بدلنے” یا "سکیورٹی اداروں کی کارکردگی نمایاں کرنے” کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں ملزم عرفان بتا رہے ہیں کہ لاہور سے شاہد نامی ایک شخص نے فیس بک پر انہیں فرینڈ ریکوسٹ بھیجا پھر وی ایک دوسرے کے رابطے میں آگئے ۔پہلے انہیں گائوں کے مختلف ویڈیوز بنانے کے ٹاسک دیئے گئے،اور بعدازاں پولیس اسٹیشن اور حساس اداروں کے ویڈیوز بنانے کے لئے کہا گیا اور انہیں اس کے پیسے ملتے تھے ۔
ویڈیو میں صاف نظر آتا ہے وہ ایک اسکرپٹ پڑھ رہے ہیں۔اس سے قبل پاکستان بھر میں سیکورٹی اداروں کی جانب سے اس طرح کے متعددکیسز کا دعویٰ کیا گیا جہاں منعقدہ پریس کانفرنسز کے دوران کئی مرداور خواتین کو چہرہ چھپائے بطور ملز م پیش کیا گیااور کچھ کی ویڈیوز منظر عام پر لائی گئیں جنہیں مجرم پیش کیا گیا جن میں بلوچ خواتین بھی شامل تھیں ۔
واضح رہے کاشگل نیوز ملزم کے خاندان، مقامی ذرائع اور اپنی آزادانہ تحقیقات کے ذریعے اس کیس کے مختلف پہلوؤں پر مزید کام کرے گا تاکہ حقائق کو زیادہ شفافیت کے ساتھ عوام کے سامنے لایا جا سکے۔اور ابھی اس خبر میں یکطرفہ ریاستی موقف پبلش کی جا رہی ہے۔
Share this content:


