پاکستان کے صوبہ سند ھ کے علاقے دادو میں پشتون قوم پرست رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر نے ڈسٹرکٹ جیل دادو میں طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف 48 گھنٹے کی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔
ان کے وکیل امداد حیدر سولنگی نے جمعرات کو بتایا کہ وزیر نے 14 اپریل سے احتجاج شروع کیا، جب جیل حکام نے ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے باوجود طبی امداد فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔
وکیل کے مطابق وزیر کو ہائی بلڈ پریشر کے باعث فوری علاج کی ضرورت تھی۔
جیل سے جاری اپنے تحریری بیان میں علی وزیر نے کہا کہ انہیں بارہا درخواستوں کے باوجود طبی سہولت فراہم نہیں کی گئی، جو انسانی وقار اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے اپنی بھوک ہڑتال کو "غیر انسانی سلوک کے خلاف پرامن احتجاج” اور "بنیادی حقوق کی مسلسل پامالی کے ردعمل”قرار دیا۔
علی وزیر نے اپنی گرفتاری کو سیاسی بنیادوں پر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ آئینی حقوق کے لیے جدوجہد کرتے رہے ہیں اور ماضی میں عدالتیں بھی ان کے حق میں فیصلے دے چکی ہیں۔
بیان میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ماضی میں ان کے خلاف بنائے گئے مقدمات میں عدالتوں نے انہیں بری کیا، جس سے الزامات کے کمزور ہونے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ تاہم، ان کے مطابق رہائی کے بعد نئے مقدمات درج کیے جاتے ہیں، جو سیاسی دباؤ کی علامت ہیں۔
انہوں نے سندھ کی عدلیہ سے اپیل کی کہ انصاف کو اس کی اصل روح کے مطابق یقینی بنایا جائے۔
گرفتاری سے دوبارہ حراست تک: ایک ٹائم لائن
10 مارچ 2026: سندھ ہائی کورٹ کی حیدرآباد سرکٹ بینچ نے رہائی کا حکم دیا
16 مارچ: رہائی کے بعد دوبارہ گرفتاری
18–19 مارچ: عدالتوں میں درخواستوں کے بعد پیشی
بعد ازاں: انسداد دہشت گردی عدالت سے جوڈیشل ریمانڈ، دادو جیل منتقلی
وکیل کے مطابق، وزیر اس وقت تین ایف آئی آرز میں نامزد ہیں جنہیں وہ "جھوٹا اور من گھڑت” قرار دیتے ہیں۔
قانونی ٹیم کا مؤقف ہے کہ علی وزیر کے خلاف مختلف صوبوں میں بار بار مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) کے تحت نظر بندی کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں۔
ان کے مطابق عدالت سے ریلیف ملتے ہی نیا حکم جاری ہو جاتا ہے۔مختلف شہروں میں مقدمات درج کر کے حراست کو طول دیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں سکھر کی انسداد دہشت گردی عدالت نے دو مقدمات میں بری کیا۔ایک کیس میں دہشت گردی کا عنصر نہ ہونے پر خارج کیاگیا۔سائبر کرائم کیس میں بھی تفتیشی رپورٹ نے جرم ثابت نہیں کیا۔اس کے باوجود، دوبارہ گرفتاری نے عدالتی احکامات کی افادیت پر سوال اٹھا دیے ہیں۔
Share this content:


