لائن آف کنٹرول کے آر پار محبت: ضلع حویلی کا نوجوان ذیشان میر کون ہے؟

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع حویلی سے تعلق رکھنے والے نوجوان ذیشان میر کی کہانی گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا اور مقامی حلقوں میں موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ ذیشان میر، ولد لال دین، مبینہ طور پر 31 مئی کو اپنی محبوبہ سے ملنے کے لیے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) عبور کرکے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر چلا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد ہم نے ذیشان میر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ مقامی ذرائع کے مطابق ذیشان ضلع حویلی کے گاؤں پینکڑی بھیڈی کا رہائشی ہے۔ وہ سردیوں کے موسم میں ضلع باغ کے مختلف ہوٹلوں میں مزدوری کرتا تھا، جبکہ گرمیوں میں اپنے آبائی گاؤں واپس آ جاتا تھا جہاں وہ جڑی بوٹیاں جمع کرنے اور مال مویشیوں کی دیکھ بھال میں مصروف رہتا تھا۔

مقامی صحافی ظفیر راٹھور کے مطابق ایل او سی کے دونوں جانب واقع سیلی کوٹ اور تلہ واڑی نامی دیہات ایک نالے کے ذریعے ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ اس نالے پر خواجہ باندی کے مقام پر لکڑی کا ایک پل موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ذیشان اپنے مال مویشی چرانے کے دوران پاکستانی جانب آتا تھا جبکہ نوجوان لڑکی بھارتی جانب سے اسی علاقے میں آتی تھی۔

ظفیر راٹھور کے مطابق امکان ہے کہ نوجوان لڑکے اور لڑکی کے درمیان رابطہ حالیہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی ان کی ملاقاتیں ہو چکی تھیں، جس کے نتیجے میں دونوں کے درمیان تعلقات قائم ہوئے۔

عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی حکام نے نوجوان لڑکی کو پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا ہے، تاہم ذیشان میر تاحال بھارتی فورسز کی تحویل میں ہے۔

دوسری جانب ضلع حویلی کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق ذیشان میر کے اہلِ خانہ نے اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروا دی ہے جبکہ واقعے کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ محبت کی خاطر کسی نے لائن آف کنٹرول عبور کی ہو۔ اس سے قبل 24 نومبر 2024 کو بھی ضلع حویلی میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جب بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان لڑکی اپنے محبوب سے شادی کی غرض سے ایل او سی عبور کرکے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر پہنچ گئی تھی۔

ذیشان میر کا معاملہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ برسوں سے تقسیم شدہ کشمیر میں سرحدوں، فوجی نگرانی اور سیاسی تنازعات کے باوجود انسانی رشتے اور جذبات بعض اوقات تمام رکاوٹوں کو چیلنج کر دیتے ہیں۔ تاہم ایسے واقعات اکثر متعلقہ افراد کے لیے قانونی، سکیورٹی اور سماجی پیچیدگیوں کا باعث بھی بنتے ہیں۔

Share this content: