اسلام آباد /کاشگل نیوز
پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر ٹرانسپورٹ جاوید بٹ کے زیر استعمال سرکاری گاڑی کی واپسی نہ ہونے کا معاملہ سنگین نوعیت اختیار کر گیا ہے، جبکہ مذکورہ گاڑی طویل عرصہ استعمال اور عدم دیکھ بھال کے باعث اب کباڑ میں تبدیل ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق جاوید بٹ وزارت سے علیحدگی کے باوجود نہ صرف سرکاری گاڑی واپس کرنے میں ناکام رہے ہیں بلکہ مبینہ طور پر سرکاری فیول بھی استعمال کرتے رہے ہیں، حالانکہ وہ اب کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں اور نہ ہی انہیں سرکاری وسائل کے استعمال کا کوئی قانونی جواز حاصل ہے۔
دستیاب ویڈیو شواہد میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قیمتی فارچونر گاڑی، جس کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جاتی ہے، اسلام آباد کے بلیو ایریا میں خستہ حالی کا شکار کھڑی ہے اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث اس کی حالت ابتر ہو چکی ہے۔
شہری حلقوں اور سماجی تنظیموں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری اثاثہ جات کے غیر قانونی استعمال کا فوری نوٹس لیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔
مزید برآں، یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ جاوید بٹ کو ایکشن کمیٹی کے خلاف استعمال کرنے کے عوض سرکاری وسائل تک غیر قانونی رسائی دی جا رہی ہے، جو کہ نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ قومی وسائل کے ضیاع کے مترادف بھی ہے۔
عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ادارے فوری طور پر اس معاملے کی شفاف تحقیقات کریں اور سرکاری گاڑی کو واپس لے کر قومی خزانے کو مزید نقصان سے بچایا جائے۔
Share this content:


