راولاکوٹ میں گرفتار عرفان خان کے اعترافی بیان پر خاندان کا شدید ردعمل، ریاستی موقف مسترد

پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کے ضلع راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے عرفان خان کی گرفتاری اور ان کے اعترافی بیان کے بعد خاندان نے پہلی بار تفصیل سے اپنا مؤقف پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے پولیس کے دعوؤں اور ویڈیو بیان کے مندرجات پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔

عرفان کے ورثاء کے مطابق رمضان کے دوران تھانہ ممتاز آباد پولیس ان کے گھر پہنچی، جب عرفان فوج میں بھرتی کے لیے راولاکوٹ گیا ہوا تھا۔ پولیس کے طلب کرنے پر والد نے عرفان کو فون کیا اور وہ شام کو گھر پہنچا، جہاں سے اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

خاندان کے مطابق پولیس نے یقین دہانی کرائی کہ معاملہ “انتہائی بڑا نہیں” اور عرفان کو تین دن میں واپس کر دیا جائے گا۔ بعد ازاں ایس ایس پی حویلی نے بھی یہی یقین دہانی کروائی، لیکن مسلسل رابطوں کے باوجود عرفان کا کوئی سراغ نہ ملا۔

ورثاء کا کہنا ہے کہ 16 اپریل کو اچانک بریکنگ نیوز میں عرفان کا اعترافی بیان سامنے آیا، جس نے پورے خاندان کو ہلا کر رکھ دیا۔

خاندان کا کہنا ہے کہ “عرفان نہ کبھی پنڈی گیا، نہ نیزا پیر، نہ اس نے وہاں کی کوئی لائیو لوکیشن بھیجی۔”

انہوں نے کہا کہ “ہمارا بیٹا یا خاندان کا کوئی فرد ریاست یا اداروں کے خلاف نہیں ہو سکتا۔”

ان کا کہنا تھا کہ “اگر کسی غیر ملکی شخص نے سوشل میڈیا پر رابطہ کیا بھی ہو تو وہ عام تصاویر کے علاوہ کچھ نہیں بھیج سکتا تھا۔”

خاندان کا موقف ہے کہ “عرفان کے بیان سے ہم کسی صورت متفق نہیں، کیونکہ وہ ان جگہوں پر گیا ہی نہیں جن کا وہ ذکر کر رہا ہے۔”

اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ عرفان کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی “را” سے ہے اور اس نے ویڈیو بیان میں اپنے روابط کا اعتراف کیا ہے۔

پولیس کے مطابق عرفان نے بیرون ملک موجود افراد سے رابطوں کا اعتراف کیا۔سوشل میڈیا کے ذریعے معلومات دینے اور مالی فائدہ لینے کا ذکر کیا۔

ویڈیو میں کہا گیا کہ لاہور سے “شاہد” نامی شخص نے فیس بک پر رابطہ کیا۔اسے گاؤں، پولیس اسٹیشن اور حساس مقامات کی ویڈیوز بنانے کے ٹاسک دیے گئے۔

تاہم ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ عرفان ایک اسکرپٹ پڑھ رہا ہے، جس پر مقامی حلقوں نے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

مقامی ذرائع اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ایسے کئی کیسز سامنے آئے جن میں افراد کو پریس کانفرنسوں میں چہرہ چھپائے پیش کیا گیا، یا ویڈیوز جاری کی گئیں، لیکن بعد میں ان کیسز کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

کاشگل نیوز عرفان کے خاندان،مقامی ذرائع اور اپنی آزادانہ تحقیقات کے ذریعے اس کیس کے تمام پہلوؤں پر مزید کام کرے گا تاکہ حقائق کو زیادہ شفافیت کے ساتھ عوام کے سامنے لایا جا سکے۔

ادارے نے واضح کیا ہے کہ اب تک شائع ہونے والی معلومات ریاستی مؤقف پر مبنی تھیں، اور اب خاندان کا مؤقف بھی شامل کیا جا رہا ہے۔

Share this content: