سپریم کورٹ میں مہاجرین نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس منظور، سماعت آج دوبارہ ہوگی

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سپریم کورٹ نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی بارہ نشستوں کے حوالے سے حکومت کی جانب سے دائر کردہ ریفرنس سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت کے لیے آج (جمعہ) صبح ساڑھے نو بجے کا وقت مقرر کر دیا ہے۔

حکومت آزاد کشمیر نے عبوری آئین 1974ء کے آرٹیکل 46-A کے تحت سپریم کورٹ سے آئینی رائے طلب کرتے ہوئے ریفرنس دائر کیا تھا۔ چیف جسٹس آزاد کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس خالد یوسف چوہدری بھی شامل ہیں، نے ابتدائی سماعت کے بعد حکومت آزاد کشمیر، حزب اختلاف، سیاسی جماعتوں، بار کونسلز اور عوام الناس (Public at Large) کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔

مہاجرین مقیم پاکستان کی بارہ نشستوں کا معاملہ گزشتہ کئی ماہ سے سیاسی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ان نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ایکشن کمیٹی کے مطابق حکومت پاکستان کی قائم کردہ کمیٹی نے گزشتہ سال اکتوبر میں اس مطالبے کی منظوری دی تھی، تاہم اس پر تاحال عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

اسی تناظر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں 9 جون کو شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی سرگرمیوں کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ حکومت آزاد کشمیر نے معاملے پر آئینی وضاحت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مہاجرین نشستوں پر انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر کے مطابق مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں پر پولنگ 27 جولائی کو ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے رینجرز اور دیگر سیکیورٹی فورسز کی خدمات حاصل کی جائیں گی اور پولنگ کا عمل سخت سیکیورٹی نگرانی میں منعقد ہوگا۔

مہاجرین نشستوں کے مستقبل سے متعلق سپریم کورٹ میں جاری آئینی کارروائی اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی شیڈول کے اعلان نے اس معاملے کو مزید اہمیت دے دی ہے، جبکہ سیاسی حلقوں اور عوامی تنظیموں کی نظریں اب عدالت عظمیٰ کی آئندہ سماعت پر مرکوز ہیں۔

Share this content: