مظفرآباد: لیڈی ہیلتھ ورکرز کا چادریں جلا کر حکومتی بے حسی کے خلاف انوکھا احتجاج

پاکستان زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں محکمہ صحت کی لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اپنے مطالبات کے حق میں ایک منفرد اور علامتی احتجاج ریکارڈ کرایا، جس نے شہریوں اور حکام کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔

اطلاعات کے مطابق لیڈی ہیلتھ ورکرز گزشتہ کئی ماہ سے اپنے بنیادی مطالبات کے حصول کے لیے سڑکوں پر موجود ہیں۔

احتجاجی خواتین کا کہنا ہے کہ بارہا یقین دہانیوں کے باوجود ان کے مسائل حل نہیں کیے گئے، جس کے باعث انہیں احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔

سوموار کے روز گھڑی چوک میں لیڈی ہیلتھ ورکرز نے احتجاج کا ایک انوکھا انداز اپناتے ہوئے اپنی چادریں نذرِ آتش کر دیں۔ اس عمل کو خواتین نے اپنے حقوق کے لیے آخری حد تک جانے کی علامت قرار دیا۔

اس احتجاج میں صرف لیڈی ہیلتھ ورکرز ہی نہیں بلکہ محکمہ صحت کے دیگر ملازمین کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی، جنہوں نے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے خواتین کے مطالبات کی حمایت کی۔

احتجاج کے دوران خواتین نے اپنے مطالبات کے حق میں اور حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر ان کے مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
مطالبات کیا ہیں؟

لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مطابق ان کے اہم مطالبات میں تنخواہوں میں اضافہ، مستقل بنیادوں پر ملازمت، مراعات کی فراہمی اور سروس اسٹرکچر کی بہتری شامل ہیں۔

یہ احتجاج نہ صرف محکمہ صحت کے نظام میں موجود مسائل کو اجاگر کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ نچلی سطح پر خدمات انجام دینے والے کارکن کس قدر مشکلات کا شکار ہیں۔

Share this content: