ٹرمپ: ایران سے معاہدہ نہ ہوا تو جنگ بندی میں توسیع مشکل، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہے گی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور جنگ بندی کے حوالے سے متعدد بیانات دیے ہیں، جن میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع کا امکان بہت کم ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ جب تک معاہدہ نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز کی امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی۔ پی بی ایس نیوز کو دیے گئے ایک اور انٹرویو میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی ختم ہو گئی تو "بہت سارے بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے۔”

ٹرمپ نے سوشل نیٹ ورک ٹروتھ سوشل پر بھی متعدد بار ایران کے ساتھ تنازعے پر اظہارِ خیال کیا۔ ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ "میں جنگ جیت رہا ہوں، چیزیں بہت اچھی جا رہی ہیں۔” ایک اور پوسٹ میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ تشکیل دے رہا ہے جو سابق صدر براک اوبامہ کے دور میں 2015 میں ہونے والے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) سے "کہیں بہتر” ہوگا۔

انہوں نے اس معاہدے کو "ملکی سلامتی سے متعلق بدترین معاہدوں میں سے ایک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ "جوہری ہتھیار تک پہنچنے کا یقینی راستہ” تھا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر انہوں نے اس معاہدے کو ختم نہ کیا ہوتا تو جوہری ہتھیار اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں استعمال ہو چکے ہوتے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی سے ایران کو یومیہ 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جو ان کے بقول ایران کو تباہ کر رہا ہے۔ انہوں نے اس تاثر کی بھی سختی سے تردید کی کہ وہ کسی قسم کے دباؤ میں آ کر معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "میں بالکل بھی دباؤ میں نہیں ہوں، حالانکہ سب کچھ نسبتاً جلد ہو جائے گا۔”

Share this content: