امریکہ سنجیدہ نہیں،مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں، ایران

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ایران نے مذاکرات سے متعلق اپنے 10 نکات جمع کروا دیے تھے، جن پر اسلام آباد میں بات چیت بھی ہوئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز امریکی اور اسرائیلی حملوں سے قبل محفوظ تھی۔‘

ترجمان کے مطابق امریکہ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ لبنان میں جنگ بندی کسی معاہدے کا حصہ نہیں تھی حالانکہ ایران نے اس بارے میں پاکستانی ثالث کو وضاحت فراہم کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’امریکہ نے بحری ناکہ بندی کی اور ایک ایرانی جہاز پر حملہ کیا جو جنگ بندی اور بین الاقوامی قوانین دونوں کی خلاف ورزی ہے۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ ’امریکہ نے دو مرتبہ مذاکرات کی خلاف ورزی کی، ایران پر حملے کیے، ایرانی شہریوں کو نشانہ بنایا اور بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے۔‘

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’امریکہ ایران پر الزام تراشی کا ایک کھیل کھیل رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ سلسلہ اس وقت بھی جاری ہے، جب کہ انھیں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔ لیکن ہم امریکیوں سے سچ بولنے کی توقع نہیں کر سکتے وہ ہمیشہ ہم پر الزام لگاتے رہتے ہیں۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ امریکہ مذاکرات اور امن کے لیے بالکل سنجیدہ نہیں ہے۔‘

واضح رہے کہ ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب امریکی وفد تہران سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے امریکہ کی ’منصفانہ اور مناسب‘ پیشکش قبول نہ کی تو وہ اس کے تمام بجلی گھروں اور پلوں کو تباہ کر دے گا۔

تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں ایک مرتبہ پھر اُس وقت اضافہ ہوا کہ جب امریکی فوجیوں نے خلیج فارس میں ایک ایرانی پرچم بردار بحری جہاز پر حملہ کیا اور اسے تحویل میں لے لیا۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ہے کہ اُن کا مُلک امریکہ کے ساتھ پاکستان میں بات چیت کے دوسرے دور میں شرکت کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔‘

تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ نے ماضی کے تجربات سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ایسی روش کبھی مثبت نتائج نہیں دے سکتی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جنگ بندی کے نفاذ کے آغاز ہی سے امریکہ نے اس کی خلاف ورزی کی اور ہم نے اس بارے میں پاکستانی ثالث کو آگاہ کر دیا تھا۔‘

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ’بحری ناکہ بندی نافذ کر کے امریکہ نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی، ہم پچھلے مذاکرات کے دوران امریکہ کے حملوں کو نہیں بھلا سکتے۔‘

انھوں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ہم اپنے قومی مفادات کا دفاع جاری رکھیں گے، اگر امریکہ اور اسرائیل نئی جارحیت شروع کرنا چاہتے ہیں تو ہماری مسلح افواج اس کے لیے تیار ہے اور وہ اس کا مناسب جواب دیں گی۔‘

Share this content: