بلوچستان میں گرلز ہاسٹل پر چھاپہ، نرسنگ طالبہ خدیجہ بلوچ جبری لاپتہ

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بولان میڈیکل کالج کے گرلز ہاسٹل پر پاکستانی فورسز نے گذشتہ شب چھاپہ مار کر نرسنگ کی طالبہ خدیجہ بلوچ بنت پیر جان کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

خدیجہ بلوچ بی ایس نرسنگ کے ساتویں سمسٹر کی طالبہ ہیں اور ضلع کیچ کے علاقے ہیرونک کی رہائشی ہیں۔

واقعے کے بعد گرلز ہاسٹل میں مقیم طالبات نے احتجاجی دھرنا شروع کر دیا ہے۔

مظاہرین نے خدیجہ بلوچ کی فوری اور بحفاظت بازیابی، طالبات کو ہراساں کرنے کے سلسلے کی بندش اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

عینی شاہدین کے مطابق چھاپے میں فرنٹیئر کور (FC)، ملٹری انٹیلی جنس (MI) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے اہلکار شامل تھے جنہوں نے خدیجہ بلوچ کو زبردستی حراست میں لیا۔

بلوچ طالبات نے احتجاج کے دوران نعرہ بازی کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے وہ شدید ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار ہیں اور انہیں بلوچ شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ خدیجہ بلوچ کی جبری گمشدگی کوئی استثنا نہیں بلکہ ریاستی پالیسی کا حصہ ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی ریاست بلوچ خاندانوں کو اجتماعی سزا دینے کے لیے جبری گمشدگی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے، جس میں طلبہ، بیوائیں، بیٹیاں اور خواتین بھی نشانہ بن رہی ہیں۔

بی وائی سی نے بلوچ عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس وقت متحد ہو کر ریاستی جبر اور ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب خواتین بھی بڑی تعداد میں اس عمل کا شکار بن رہی ہیں۔

Share this content: