اسلام آباد میں پولیس کی جعلی وردی پہنے ایک خاتون کی گرفتاری کا دعویٰ

اسلام آباد/کاشگل نیوز

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی خدشات کو جنم دینے والا ایک انوکھا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک خاتون کو ٹریفک پولیس کی جعلی وردی پہنے وی آئی پی روٹ پر ڈیوٹی کے انداز میں بیٹھنے پر گرفتار کر لیا گیا۔

یہ واقعہ ایکسپریس ہائی وے پر ڈھوک کالا خان پل کے قریب شہر کی نہایت مصروف اور حساس شاہراہ پر اس وقت پیش آیاجب ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کے لئے اسلام آباد کومکمل سیل کردیا گیا ہے اور سیکورٹی ہائی الرٹ ہے ۔

عینی شاہدین کے مطابق مذکورہ خاتون مکمل پولیس یونیفارم میں ملبوس تھی اور خود کو ٹریفک پولیس کی اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) ظاہر کر رہی تھی۔

پولیس ذرائع کے مطابق خاتون کی حرکات و سکنات اور یونیفارم پر درج بعض غیر معمولی نشانات نے ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کو مشکوک بنا دیا، جس کے بعد اس کی فوری جانچ پڑتال کی گئی۔ ابتدائی تفتیش میں خاتون کی شناخت اقراء بی بی کے نام سے ہوئی جو ایبٹ آباد کی رہائشی بتائی جاتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ خاتون کسی بھی سرکاری ادارے سے وابستہ نہیں بلکہ جعلی طور پر پولیس اہلکار بن کر حساس مقام پر موجود تھی۔ واقعے کے فوری بعد کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو حراست میں لے کر تھانہ کھنہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا، جہاں اس سے تفتیش جاری ہے۔

پولیس حکام کے مطابق تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا خاتون اکیلے یہ اقدام کر رہی تھی یا اس کے پیچھے کوئی منظم گروہ بھی کارفرما ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ پہلو بھی زیرِ غور ہے کہ وہ وی آئی پی روٹ جیسے حساس مقام تک کیسے پہنچی اور وہاں کب سے موجود تھی۔

سکیورٹی ماہرین نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات عوام کو گمراہ کرنے کے ساتھ ساتھ اہم مقامات کی سکیورٹی پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے اور سرکاری وردی کے غلط استعمال کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔

ادھر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے جلد حقائق منظر عام پر لانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

Share this content: