بلوچستان سے اطلاعات ہیں کہ پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے مزید 2 بلوچ خواتین کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق ضلع خضدار کے علاقے نال سے موصول اطلاعات کے مطابق رات گئے فورسز نے نال کے گاؤں استخلی میں ایک گھر پر چھاپہ مارا، اہلِ خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور وہاں موجود خاتون سمینہ دختر دوست محمد سکنہ اورناچ کو ان کے کزن قمبر ولد لطیف سمیت حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
اہلِ خانہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں رات 9 بجے گھر سے اٹھایا گیا۔
اسی طرح ضلع کیچ کے علاقے سنگ آباد میں 14 اپریل کو فورسز نے ایک گھر پر کارروائی کرتے ہوئے 22 سالہ گل بانک بنت تاج محمد کو حراست میں لیا، جو تاحال منظرِ عام پر نہیں آئی ہیں۔
اہلِ خانہ اور بی وائی سی نے ان کی جبری گمشدگی کی تصدیق کرتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یاد رہے کہ رواں ماہ بلوچستان سے 5 خواتین جبری گمشدگی کا نشانہ بنی ہیں، جبکہ حالیہ مہینوں میں مختلف اضلاع اور کراچی سے کم از کم 15 بلوچ خواتین کو فورسز اور خفیہ اداروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا ہے۔
Share this content:


