فورسز کی فائرنگ سے نہتے مظاہرین کی ہلاکتیں،راولاکوٹ واقعات پر بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ

راولا کوٹ / کاشگل نیوز

پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں حالیہ احتجاجی مظاہروں اور سکیورٹی آپریشنز کے دوران متعدد ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات کے بعد بین الاقوامی سطح پر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ سامنے آ گیا ہے۔

مقامی ذرائع اور زمینی اطلاعات کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران مبینہ طور پر کم از کم 8 افراد ہلاک جبکہ 150 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم ان اعداد و شمار کی تاحال کسی آزاد اور غیر جانبدار ادارے کی جانب سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے منسلک احتجاجی مقامات کے اطراف سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی، جبکہ مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ ان کے خلاف براہ راست فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ سرکاری سطح پر ان دعوؤں کے حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

ذرائع کے مطابق راولاکوٹ میں پیش آنے والے واقعات کی آزادانہ جانچ اوپن سورس انٹیلی جنس (OSINT) کے ذریعے ممکن ہے، جس میں ویڈیوز، تصاویر، ہسپتالوں کا ریکارڈ، مقامی میڈیا رپورٹس، جغرافیائی تجزیے اور دیگر عوامی طور پر دستیاب شواہد شامل ہیں۔

اس صورتحال کے تناظر میں اقوام متحدہ، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، آزاد صحافیوں، عالمی میڈیا اداروں اور تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کا آغاز کریں اور زمینی حقائق کی تصدیق کو یقینی بنائیں۔

اپیل میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ راولاکوٹ اور پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی مجموعی صورتحال پر فوری توجہ دے، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے اور انسانی حقوق کی کسی بھی ثابت شدہ خلاف ورزی پر ذمہ دار عناصر کا تعین کرتے ہوئے جوابدہی کو ممکن بنایا جائے۔

اپیل میں کہا گیا ہے کہ انسانی جانوں کا تحفظ بنیادی انسانی حق ہے اور مزید جانی نقصان کو روکنے کے لیے فوری بین الاقوامی توجہ ناگزیر ہے۔

Share this content: