تحریر : خواجہ کبیر احمد
گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات ایک معمول کی سیاسی سرگرمی ہی نہیں بلکہ عوامی حقوق، وسائل پر اختیار، سیاسی شعور اور مستقبل کی سمت کے تعین کا ایک اہم موقع بھی ہیں۔ یہ انتخابات ایسے وقت میں منعقد ہو رہے ہیں جب گلگت بلتستان کے عوام اپنے حقوق، شناخت، وسائل اور بہتر طرز حکمرانی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھا رہے ہیں۔ اس پس منظر میں ہر ووٹر کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر کرے اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کرے جو واقعی عوام کے مسائل اور خواہشات کی ترجمانی کر سکیں۔
گلگت بلتستان قدرتی وسائل، معدنی ذخائر، آبی وسائل اور سیاحتی حسن سے مالا مال خطہ ہے۔ لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود یہاں کے عوام آج بھی بے شمار بنیادی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ روزگار کی کمی، تعلیم اور صحت کی سہولیات کا فقدان، مہنگائی، بنیادی ڈھانچے کی کمزوری اور وسائل پر مقامی اختیار جیسے معاملات عوام کے لیے مسلسل تشویش کا باعث ہیں۔ یہی وہ مسائل ہیں جنہوں نے عوام میں سیاسی شعور کو جنم دیا اور مختلف عوامی تحریکوں کو ابھرنے کا موقع فراہم کیا۔
گزشتہ برسوں میں عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان ایک مؤثر عوامی پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس نے عوامی حقوق، ٹیکسوں کے نفاذ، مہنگائی، وسائل کے تحفظ اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مسلسل جدوجہد کی ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک نے ثابت کیا کہ جب عوام اپنے حقوق کے لیے متحد ہو جائیں تو ان کی آواز کو نظر انداز کرنا آسان نہیں رہتا۔ اس جدوجہد نے گلگت بلتستان کے سیاسی منظرنامے میں عوامی مسائل کو مرکزی حیثیت دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
دوسری جانب عوامی حلقوں میں یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ ماضی میں اسمبلیوں تک پہنچنے والے بہت سے نمائندے عوامی امنگوں پر پورا نہیں اتر سکے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اقتدار میں آنے والے کئی سیاست دان عوامی مسائل کے حل کے بجائے ذاتی، خاندانی یا گروہی مفادات کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے نمائندے واقعی عوامی حقوق کے محافظ ہوتے تو عوام کو اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے بار بار احتجاج اور تحریکوں کا سہارا نہ لینا پڑتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج روایتی سیاسی جماعتوں اور ان کے نمائندوں کے بارے میں عوام کے ایک بڑے طبقے میں مایوسی اور عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔
پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں صرف ہر انتخاب میں گلگت بلتستان کا رخ کرتی ہیں اور عوام سے بڑے بڑے وعدے کرتی ہیں، لیکن عوامی حلقوں کا سوال یہ ہے کہ انتخابات کے بعد ان وعدوں کا کیا بنتا ہے؟ کیا عوام کے مسائل واقعی حل ہوتے ہیں؟ کیا وسائل پر عوام کا اختیار بڑھتا ہے؟ کیا نوجوانوں کو روزگار ملتا ہے؟ کیا عوام کی سیاسی اور آئینی خواہشات کو اہمیت دی جاتی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ووٹرز کو خود تلاش کرنے ہوں گے۔
اس صورتحال میں گلگت بلتستان کے عوام کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مقامی نمائندوں، مقامی سیاسی قوتوں اور ان افراد کو ترجیح دیں جو ہمیشہ عوام کے درمیان رہے ہیں، عوامی مسائل سے واقف ہیں اور جن کا سیاسی کردار عوامی حقوق کی جدوجہد سے وابستہ رہا ہے۔ ایسے نمائندے جو انتخابی مہم کے دوران ہی نہیں بلکہ ہر مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑے رہے ہوں اور جنہوں نے عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی کردار ادا کیا ہو۔
گلگت بلتستان کے وسائل پر پہلا حق وہاں کے عوام کا ہے۔ ان وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد کا رخ بھی مقامی آبادی کی ترقی، خوشحالی، تعلیم، صحت اور روزگار کی طرف ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ اسمبلیوں میں ایسے لوگ پہنچیں جو عوامی مفادات کے حقیقی محافظ ہوں اور جو ہر قسم کے دباؤ سے بالاتر ہو کر اپنے عوام کے حقوق کا دفاع کر سکیں۔
حالیہ انتخابات گلگت بلتستان کے عوام کے لیے ایک اہم موقع ہیں کہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے یہ فیصلہ کریں کہ آیا وہ روایتی سیاسی ڈھانچوں کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں یا ایسی قیادت کو آگے لانا چاہتے ہیں جو عوامی حقوق، وسائل پر مقامی اختیار اور عوامی فلاح و بہبود کو اپنی سیاست کا محور بنائے۔ یہ فیصلہ صرف پانچ سال کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہوگا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام اپنے ووٹ کی طاقت کو پہچانیں، امیدواروں کی کارکردگی اور کردار کا جائزہ لیں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو عوامی آواز بن سکیں، عوامی حقوق کے لیے کھڑے ہو سکیں اور گلگت بلتستان کے روشن اور باوقار مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ یہی ایک باشعور قوم اور مضبوط جمہوری معاشرے کی پہچان ہے۔
٭٭٭
Share this content:


