پاکستان زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں صورتحال انتہائی مخدوش اور ہولناک شکل اختیار کر گئی ہے۔
دارالحکومت مظفرآباد اور راولاکوٹ سمیت حساس علاقوں میں مکمل کرفیو نافذ کر کے پاکستانی فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق فورسز کو "دیکھتے ہی گولی مارنے” (Shoot on Sight) کے اختیارات دیے جا چکے ہیں، جس کے بعد پورے خطے میں قیامتِ صغریٰ کا منظر ہے۔
مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق گزشتہ رات راولاکوٹ ہسپتال کے سامنے جاری احتجاجی دھرنے پر فوج نے ہولناک کریک ڈاؤن کرتے ہوئے براہِ راست اور اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں سڑکیں خون سے نہلا دی گئیں۔
عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ موقع پر موجود افراد کا کہنا ہے کہ فورسز کی فائرنگ سے دو درجن (24) سے زائد نہتے مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں اور سڑکوں پر لاشوں کے انبار دیکھے گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق جب کوئی شہری کسی زخمی کی مدد کرنے یا لاش اٹھانے کی کوشش کرتا، تو بلند عمارتوں پر تعینات اسنائپر شوٹرز اور فوجی اہلکار اسے بھی نشانہ بنا کر قتل کر دیتے، جس سے شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
دوسری جانب، حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جھڑپوں میں 4 پولیس اہلکاروں سمیت محض 7 افراد ہلاک ہوئے ہیں، تاہم عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور فوج ہلاکتوں کے اصل اعداد و شمار کو مکمل طور پر چھپا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق فوج نے راولاکوٹ ہسپتال کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے اور وہاں کسی بھی عام شہری یا زخمیوں کے لواحقین کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ خطے میں انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ موبائل فون سروسز کو بھی مکمل طور پر بلاک کر دیا گیا ہے۔
مقامی باشندوں کا الزام ہے کہ اس مکمل ڈیجیٹل بلیک آؤٹ کا مقصد دنیا کی نظروں سے حقائق کو اوجھل کرنا اور مبینہ فوجی کارروائی کے ثبوت مٹانا ہے۔
راولاکوٹ کی صورتحال کو مقامی عینی شاہدین انتہائی تشویشناک اور "کشمیری نسل کش اقدام” سے تعبیر کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گلیوں اور سڑکوں پر دو افراد کو بھی اکٹھے دیکھنے پر فوری گولی مار دی جاتی ہے۔ سکیورٹی فورسز کی اس مبینہ وحشیانہ پیش قدمی کے باعث نہتے شہریوں اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنان میں حکومت پاکستان اور مقامی انتظامیہ کے خلاف شدید ترین نفرت اور اشتعال پایا جا رہا ہے۔
مواصلاتی نظام مکمل مفلوج ہونے کے باعث آزاد ذرائع سے ہلاکتوں کی حتمی تعداد اور نقصانات کی تفصیلات حاصل کرنے میں شدید رکاوٹیں درپیش ہیں۔
Share this content:


