پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ میں گزشتہ روز سات و آٹھ جون کی شب پاکستانی سیکورٹی فورسزز کی کریک ڈائون کےدوران جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے متعدد کارکنان ہلاک اور سینکڑوں کی و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔
کمشنر پونچھ سردار وحید نے بتایا ہے کہ اب تک چھ سویلینز اور تین پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
جبکہ دوسری جانب پولیس اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی صورت میں بتایا ہے کے 6 سویلینز اور 4 پولیس اہکاروں کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے تاہم تعداد اس سے کئی زیادہ ہے۔
مقامی صحافی اجمل شاہین کے مطابق جب وہ ہلاک افراد کے اعداد وشمار لینے سی ایم ایچ ہسپتال گئے تو وہاں پر موجود رینجرز کے اہلکاروں نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ ان کے آفیسر باہر گئے ہیں آپ اپنا فون نمبر دیں جائیں ہم آپکو آگاہ کریں گے ،صبح پانچ بجے سے اب دوپہر بارہ بج چکے ہیں مگر کسی نے کچھ نے بتایا۔
اجمل شاہین نے مزید بتایا کہ ہلاک افراد کی تعداد عینی شاہدین کے مطابق چار درجن سے زائد ہے تاہم اسے حتمی نہیں کہا جا سکتا کسی کہ ابھی بہت سے لوگ لا پتہ ہیں اور کسی سے رابطہ نہیں ہو رہا۔
ایک اور نجی کلینک میں کام کرنے والے محکمہ صحت سے وابستہ ایکسرے ٹیکنیشن نے نام نہ ظاہر کرنے کی صورت میں بتایا کہ رات گئے سی ایم ایچ ہسپتال کا کنٹرول آرمی کے میڈیکل کے لوگوں نے سنبھال لیا تھا مقامی اسٹاف وہاں پر کوئی نہیں کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں۔
تاہم اس وقت راولاکوٹ اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں دفعہ 144 کا ضلعی انتظامیہ نے نفاذ کر رکھا ہے اور صلعی انتظامیہ نے کی جانب سے لاوڈ سپیکر پر اعلان کیا جا رہا ہے کہ اپنے بچوں کو گھر رکھیں باہر دفعہ 144 کا نفاذ ہے۔
دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے نو جون کو لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
احتجاج میں شدت اس وقت آئی جب کمیٹی کے کور ممبران راولاکوٹ سے آٹھ کلو میٹر دور کھائیگلہ کے مقام پر منعقدہ کانفرنس سے واپس راولاکوٹ کی جانب آ رہے تھے کہ برمنگ پل کے مقام نقاب پوشوں نے مبینہ طور پر فائرنگ کی جس میں جیک کے کور ممبر زخمی جبکہ کے ان قریبی ساتھی شاہزیب حبیب ہلاک ہو گئے تھے ۔کور ممبر عمر نذیر نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ایف سی اور پسی نے ہم پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ہمارے ساتھی شاہزیب حبیب شہید ہو چکے ہیں۔
شاہزیب کے ہلاک ہونے کے بعد کمیٹی کے کارکنان نے ان کی میت کو سی ایم ایچ ہسپتال سے اپنے تحویل میں لے کر سی ایم ایچ کے سامنے حتجاجی دھرنا دے دیا۔ شاہزیب کے قاتلوں کے خلاف نا معلوم افراد کے نام ایف آئی آر درج ہو گئی ہے تاہم ورثاکا کہنا ہے جب تک قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا میت کو نہیں دفنائیں گے ۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ابھی آٹھ جون دن گیارہ بجے تک مقامی پولیس کی جانب سے شیلنگ جاری تھی۔
Share this content:


