بلوچستان کے دو مختلف علاقوں نوشکی اور ڈھاڈر میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس تھانوں پر حملے کئے جس کے نتیجے میں کم از کم ایک پولیس اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔
سرکاری حکام کے دعویٰ کے مطابق کہ ان حملوں کو ناکام بنایا گیا اور پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور بھی مارا گیا۔
ان میں سے ایک حملہ جمعہ کی شب ضلع کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں پولیس تھانے پر کیا گیا۔
پولیس کے مطابق ضلع کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں پولیس تھانے پر مسلح افراد کی فائرنگ اور دستی بم سے حملہ میں ایک اہلکار ہلاک جبکہ چار زخمی ہوگئے اور مسلح افراد نے پولیس تھانے کے سامنے کھڑی پولیس کے متعدد گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔
پولیس حکام کے مطابق جمعہ کی شب مسلح افراد نے ضلع کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں مسلح افراد نے پولیس تھانے پر حملہ کیا اور دستی بم پھینکے اور فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک اہلکار صوبہ خان ہلاک جبکہ چار زخمی ہوگئے ۔
ادھر ضلع نوشکی کے علاقے مل میں بھی جمعہ کی شب پولیس تھانے پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا۔
پولیس کے مطابق ہفتے کی شب مل پولیس تھانہ پر مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس آپریٹر نصرت نامی پولیس جوان پائوں پر گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا جن کو پولیس کے ٹیم نے میر گل خان نصیر ٹیچنگ ہسپتال نوشکی منتقل کردیا گیا ۔ جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد دیدی گئی ۔
پولیس واقعہ کی مزید تفتیش کررہی ہے ۔
نوشکی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ تیس کے قریب مسلح افراد نے تھانے پر حملہ کیا جس میں ایک پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوا۔
اس سے قبل بھی ضلع کے مختلف علاقوں میں پولیس تھانوں پر حملے ہوتے رہے ہیں۔اب تک ان حملوں کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔
Share this content:


