باغ میں عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی، غریب شہری کی زمین پرمبینہ قبضہ

باغ/کاشگل خصوصی رپورٹ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع باغ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی ہے، جہاں کورٹ کے واضح سٹے آرڈر کے باوجود ایک غریب شہری عبدالرشید منہاس کی زمین پر مبینہ طور پر قبضہ کر لیا گیا۔

اس واقعے نے نہ صرف مقامی سطح پر شدید تشویش کو جنم دیا ہے بلکہ انصاف کے نظام پر عوامی اعتماد کو بھی متزلزل کر دیا ہے۔

متاثرہ شہری کے مطابق انہوں نے اپنی زمین کے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا، جس پر عدالت نے واضح حکم امتناعی (سٹے آرڈر) جاری کیا۔ تاہم، عدالتی احکامات کے باوجود مبینہ طور پر بااثر افراد نے انتظامیہ کی خاموش حمایت یا عدم دلچسپی کے باعث زمین پر قبضہ جما لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سارے عمل میں متعلقہ اداروں کی جانب سے نہ صرف غفلت برتی گئی بلکہ بعض اہلکاروں کی ملی بھگت کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

شہری حلقوں اور سماجی تنظیموں نے اس واقعے کو قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی نہ بنایا گیا تو عام آدمی کے لیے انصاف کا حصول ناممکن ہو جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، کیونکہ اس طرح کے واقعات سے قبضہ مافیا کو کھلی چھوٹ ملتی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کے حکم امتناعی کی خلاف ورزی ایک سنگین جرم ہے، جس پر فوری کارروائی اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ حکام اس معاملے کا فوری نوٹس لے کر شفاف انکوائری کروائیں اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

عوامی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس قسم کی ناانصافیوں کا سدباب نہ کیا گیا تو اس کے نتیجے میں شدید عوامی ردعمل سامنے آ سکتا ہے، جو انتظامیہ کے لیے مزید مشکلات کا باعث بنے گا۔ شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے اور ہر شہری کے حقوق کا تحفظ کیا جائے تاکہ انصاف کا نظام مضبوط ہو سکے۔

Share this content: