کوٹلی میں پاکستانی فورسز کا قتل عام ، ایک ڈاکٹر اور خاتون وکیل کو گھر میں گھس کر ماردیا گیا

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے ضلع کوٹلی میں پیش آنے والے حالیہ واقعات پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستانی رینجرز اور دیگر سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد شہری گولیوں کا نشانہ بنے۔

مقامی ذرائع کے مطابق ایک ڈاکٹر کو ان کے گھر پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، جبکہ ایک نوجوان خاتون وکیل کو بھی فائرنگ کرکے قتل کردیاگیا ۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ دونوں افراد عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ میں شریک نہیں تھے، جس سے یہ سوالات جنم لیتے ہیں کہ عام شہری اس تشدد کا نشانہ کیوں بنے۔

اسی دوران عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کے دوران بھی فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں کم از کم تین نوجوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ نہتے اور پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال ناقابلِ قبول ہے اور اس کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

احتجاج کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے بنیادی حقوق، بہتر سہولیات اور عوامی مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں، اور ان کے مطابق پرامن احتجاج کا جواب گولیوں سے دینا جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق کے تقاضوں کے منافی ہے۔

وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کو فوری طور پر روکا جائے، ذمہ دار افراد کا احتساب کیا جائے اور عوام کو پرامن احتجاج کا حق دیا جائے۔

مظاہرین اور مقامی کارکنان یہ بھی الزام عائد کرتے ہیں کہ بعض پاکستانی میڈیا ادارے زمینی حقائق کے برعکس یہ تاثر دے رہے ہیں کہ عوام نے اسلحہ اٹھا لیا ہے۔

ان کے مطابق احتجاجی تحریک بنیادی طور پر عوامی اور سیاسی مطالبات پر مشتمل ہے اور اس حوالے سے پیش کی جانے والی بعض رپورٹس حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتیں۔

عوامی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ خطے میں خونریزی روکنے کے لیے انٹر نیشنل برادری فوری اقدامات کرے ، کیوں کہ جموں کشمیر کا علاقہ پاکستان کا حصہ نہیں ہے۔

Share this content: