بلوچ آزادی پسند رہنما اور بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے سپریم کمانڈرڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اپنے بنیادی حقوق اور آزادی کیلئے پنجابی قبضے کے خلاف کشمیری عوام کی مزاحمت اس حقیقت کا کھلا اظہار ہے کہ محکوم اقوام کو طاقت کے زور پر مغلوب نہیں رکھا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیریوں اور دیگر محکوم اقوام پر جبر کے ذریعے فیصلے مسلط کرنا اب اسلام آباد کیلئے ممکن نہیں ہے۔ پاکستان کے زیرِ تسلط “آزاد کشمیر “ صرف نام کی حد تک آزاد ہے، لیکن درحقیقت کشمیر میں پنجاب کی عمل داری اور بالادستی قائم ہے۔ فیڈریشن کے نام پر پنجاب کی بالادستی محکوم اقوام پر مسلط کی گئی ہے اور کشمیر کے فیصلے کشمیریوں کے بجائے اسلام آباد میں بیٹھے سیکرٹری لیول کے افسران کر رہے ہیں۔
بلوچ رہنما نے کہا کہ کشمیریوں پر ظلم و جبر اور ان کا قتل عام کرنا غیر فطری ریاست کے خوف کا اظہار ہے کیونکہ محکوم اقوام پر تادیر جبری تسلط قائم رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔ پنجاب کی بالادستی کے خلاف جدوجہد محکوم اقوام کا حق ہے اور ہم ان کی حقِ حاکمیت اور آزادی کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قبضے کے خلاف محکوم اقوام اٹھنے میں جتنی دیر کریں گی، انہیں اتنے ہی زیادہ نقصان سے دوچار ہونا پڑے گا۔ حقِ آزادی کے لیے جدوجہد محکوم اقوام کا فرض ہے اور ہم کشمیریوں، پشتونوں اور سندھیوں کی جدوجہدِ آزادی کی اخلاقی اور سیاسی طور پر حمایت کرتے ہیں۔ محکوم اقوام آزادی کی جدوجہد میں بلوچوں کو اپنا ساتھی سمجھیں، اور بلوچ قوم بھی امید رکھتی ہے کہ دیگر محکوم اقوام بلوچستان کی جدوجہدِ آزادی کی حمایت سے پس و پیش یا پشت پناہی سے گریز نہیں کریں گی۔
Share this content:


