عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی غیر قانونی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جاری احتجاجی تحریک کے خلاف حکومتی طاقت کے وحشیانہ استعمال اور کریک ڈاؤن پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) پر پابندی کو غیر قانونی اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔

پاکستانی حکام کی جانب سے خطے میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اور عوامی تحریک کو دبانے کے اقدامات پر ردِعمل دیتے ہوئے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے آفیشل بیان میں کہا ہے کہ "ایک خالصتاً عوامی اور نچلی سطح پر ابھرنے والی تنظیم (Grassroots Organization) کو مبہم اور غیر واضح بنیادوں پر ‘دہشت گرد’ قرار دینا، اور اس کے ساتھ ہی پورے خطے کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع (انٹرنیٹ بلیک آؤٹ) کر دینا، پاکستانی حکام کے طرزِ عمل اور انسانی حقوق سے ان کی سنگین لاپرواہی پر شدید سوالات کھڑے کرتا ہے۔”

عالمی تنظیم نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی سیاسی اور اقتصادی حقوق کی تحریک کو کچلنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کا سہارا لینا کسی طور جائز نہیں ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق "انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے تحت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) پر عائد کی جانے والی یہ پابندی سراسر غیر متناسب، غیر قانونی اور شہریوں کے آزادانہ اجتماع و تنظیم سازی کے بنیادی حق (Right to Freedom of Association) کی سنگین پامالی ہے۔”

مبصرین کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ اور مظفرآباد میں کرفیو، مبینہ اسٹریٹ فائرنگ اور ہلاکتوں کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل کا یہ سخت ترین عالمی بیان پاکستان اور مقامی انتظامیہ کے ریاستی بیانیے کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

عالمی تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ پرامن اختلافِ رائے کو دہشت گردی سے جوڑنے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے اور خطے میں انسانی حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے۔

Share this content: