وائٹ ہاؤس کی جانب سے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
تقریب واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں جاری تھی جہاں سات سے آٹھ گولیاں چلنے کی اطلاعات ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ فائرنگ کے دوران ایک سیکرٹ سروس اہلکار کو گولی لگی، تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے وہ محفوظ رہے۔
ان کے مطابق حملہ آور کے پاس شاٹ گن، ہینڈ گن اور متعدد چاقو موجود تھے۔
صدر نے کہا کہ "یہ افسوسناک واقعہ ہے، لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بہترین کارکردگی دکھائی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "ہوٹل محفوظ جگہ نہیں تھی، اسی لیے ہم وائٹ ہاؤس میں نئی تعمیرات کر رہے ہیں۔”
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ تقریب دوبارہ منعقد کی جائے گی۔
صدر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر حملہ آور کی تصاویر اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی جاری کی، جن میں ایک شخص کو بال روم کی جانب دوڑتے اور فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تصاویر شیئر کرنے کا مقصد شفافیت برقرار رکھنا ہے۔
ایف بی آئی نے تصدیق کی ہے کہ ایک مشتبہ شخص کو ہلٹن ہوٹل میں فائرنگ کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
میٹروپولیٹن پولیس کے قائم مقام سربراہ جیف کیرول کے مطابق حملہ آور کے پاس کئی ہتھیار موجود تھے اور وہ اکیلا تھا۔
زخمی سیکرٹ سروس اہلکار کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی ریپبلکن رکن پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی ہو۔
انہوں نے اپنی جان لینے کی دو سابقہ کوششوں کا ذکر کیا — ایک پینسلوینیا میں ریلی کے دوران اور دوسری فلوریڈا کے پام بیچ پر گالف کھیلتے وقت۔
صدر نے حملہ آور کو "پاگل شخص” قرار دیتے ہوئے کہا:
"یہ پاگل لوگ ہیں جن سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔”
ان کے مطابق حملہ آور نے تقریباً پچاس گز کے فاصلے سے دوڑ کر حملہ کرنے کی کوشش کی، جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے فوری ردِعمل دیا۔
حکام نے بتایا کہ حملہ آور کے کیلیفورنیا میں واقع اپارٹمنٹ پر بھی چھاپہ مارا گیا ہے۔
Share this content:


