اسلام آباد / کاشگل نیوز
پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کے نواحی علاقے میں مبینہ غیر قانونی بستی کے خلاف کارروائی کے دوران متعدد گھروں کو مسمار کر دیا گیا، جس پر متاثرہ مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومتی اداروں پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
متاثرین کے مطابق انہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کر کے یہاں گھر تعمیر کیے تھے۔ ایک متاثرہ شہری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے گاؤں کی زمین فروخت کر کے تقریباً تیس لاکھ روپے میں یہاں گھر بنایا، جبکہ مختلف مراحل پر متعلقہ حکام کو ادائیگیاں بھی کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں گھر کی دیوار کی تعمیر کے لیے بھی مبینہ طور پر پچیس ہزار روپے ادا کیے گئے۔
متاثرہ شہری نے مزید کہا کہ “ہم پانچ بچوں کے ساتھ دو دن سے ملبے پر بیٹھے ہیں، ہماری ساری زندگی کی کمائی چند گھنٹوں میں تباہ کر دی گئی۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی علاقے میں بجلی اور گیس کے میٹر بھی سرکاری اجازت سے نصب کیے گئے تھے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر بستی غیر قانونی تھی تو بنیادی سہولیات کیسے فراہم کی گئیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں نہ صرف حالیہ آباد کار بلکہ وہ خاندان بھی متاثر ہوئے جو دہائیوں سے اس علاقے میں مقیم تھے، حتیٰ کہ اسلام آباد کے قیام سے پہلے کے رہائشی بھی بے گھر ہو گئے۔ کئی گھروں کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جا رہی ہے۔
شہری حلقوں اور سماجی کارکنان نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کو متبادل رہائش یا مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی بستی کو غیر قانونی قرار دینے سے قبل اس کے قیام، سہولیات کی فراہمی اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کا تعین ضروری ہے۔
دوسری جانب حکام کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق ریاستی زمین پر بغیر اجازت تعمیرات غیر قانونی تصور ہوتی ہیں، لیکن انسانی بنیادوں پر متاثرین کی بحالی بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
یہ واقعہ شہری منصوبہ بندی، ریاستی پالیسیوں اور عوامی حقوق کے درمیان توازن پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے۔
Share this content:


