مظفرآباد / کاشگل خصوصی رپورٹ
پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک بار پھر سیاسی درجہ حرارت بڑھنے لگا ہے، جہاں عوامی حقوق کی تحریک سے وابستہ اہم رہنماؤں کے خلاف مقدمات کے بعد وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق شوکت نواز میر، راجہ صہیب اور دیگر رہنماؤں کے خلاف کارروائی نے خطے میں جاری سیاسی کشیدگی کو مزید ہوا دے دی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 9 جون کو مجوزہ ریاست گیر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی تیاریاں عروج پر ہیں، جبکہ عام انتخابات بھی قریب ہیں۔
مبصرین کے مطابق حکومتی اقدامات کو محض قانونی کارروائی کے بجائے سیاسی دباؤ کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ چند ماہ قبل عوامی حقوق کی تحریک کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں کم از کم 10 شہری ہلاک جبکہ دو پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم اس واقعے کے بعد ریاستی طاقت کے استعمال پر سوالات اٹھنے کے باوجود اعلیٰ حکومتی شخصیات کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
اس وقت کے وزیراعظم چوہدری انوارالحق اور وزیر داخلہ وقار نور کے خلاف بھی کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔
دوسری جانب موجودہ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور، جو ماضی میں عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے حامی سمجھے جاتے تھے، اب اپنی حکومت کے ذریعے سخت انتظامی اقدامات کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا حکومت گرفتاریوں اور مقدمات کے ذریعے عوامی تحریک کو روکنے میں کامیاب ہو سکے گی یا اس سے مزید ردعمل جنم لے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر 9 جون کی ہڑتال کو روکنے کیلئے سخت حکمت عملی اپنائی گئی تو کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ عوامی مطالبات، معاہدوں اور چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد کو یقینی بنائے تاکہ صورتحال کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔
ادھر عوامی حلقوں کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آ رہا ہے اور مختلف علاقوں میں احتجاجی مہم کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، جس سے آنے والے دنوں میں سیاسی ماحول مزید گرم ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Share this content:


