مظفرآباد/کاشگل نیوز
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 29 ستمبر تا 4 اکتوبر کے دوران پیش آنے والے واقعات کے سلسلے میں درج مقدمات نے ایک نئی صورت اختیار کر لی ہے، جہاں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم رہنماؤں کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق جن افراد کے نام سامنے آئے ہیں ان میں شوکت نواز میر، انجم زمان اعوان، راجہ صعیب جاوید، راجہ سعید احمد، سید حفیظ ہمدانی اور صاحبزادہ خالد وقاص سمیت دیگر کور ممبران شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ان کے خلاف درج ایف آئی آرز کی بنیاد پر قانونی کارروائی کا عمل آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب سوشل میڈیا پر ان گرفتاریوں سے متعلق خبریں تیزی سے پھیلنے لگیں۔ اس حوالے سے ایس ایس پی مظفرآباد نے واضح بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
"سوشل میڈیا پر بے بنیاد پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے، جھوٹی افواہیں پھیلا کر انارکی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔”
پولیس حکام کے مطابق شہری غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں۔
آج دن بھر عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری سے متعلق خبریں "جنگل میں آگ” کی طرح پھیلتی رہیں، جس کے باعث شہریوں میں بے چینی دیکھی گئی۔ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر قیاس آرائیاں اور غیر تصدیق شدہ اطلاعات گردش کرتی رہیں، جس نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا۔
یاد رہے کہ 29 ستمبر تا 4 اکتوبر کے دوران پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے، جن پر اب قانونی پیش رفت جاری ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی کارروائی سے متعلق حتمی معلومات صرف سرکاری ذرائع سے ہی حاصل کی جائیں۔
موجودہ صورتحال میں جہاں ایک طرف گرفتاریوں کی خبریں گردش کر رہی ہیں، وہیں پولیس نے انہیں افواہیں قرار دیتے ہوئے سخت وارننگ بھی جاری کی ہے۔ ایسے میں حقائق اور افواہوں کے درمیان فرق کرنا شہریوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
Share this content:


