لبنان میں غذائی بحران کا خدشہ: 12 لاکھ سے زائد افراد شدید بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں

اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ ایک تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ جنگ کے نتیجے میں لبنان کو سنگین غذائی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے، جہاں 12 لاکھ سے زائد افراد شدید بھوک کی لپیٹ میں آنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، Food and Agriculture Organization (ایف اے او)، World Food Programme (ڈبلیو ایف پی) اور Ministry of Agriculture Lebanon کے مشترکہ تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ اپریل سے اگست 2026 کے دوران تقریباً 12 لاکھ 40 ہزار افراد کو خوراک کی شدید عدم دستیابی کا سامنا ہوگا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تعداد لبنان کی مجموعی آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی بنتی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک میں خوراک کا بحران کس حد تک شدت اختیار کر رہا ہے۔ رپورٹ میں متاثرہ افراد کو "بحرانی سطح یا اس سے بھی بدتر” غذائی عدم تحفظ کا شکار قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق، حالیہ جنگ نے لبنان کے پہلے سے کمزور معاشی ڈھانچے کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔ زرعی پیداوار، سپلائی چین اور روزگار کے مواقع متاثر ہونے کے باعث عام شہریوں کی قوتِ خرید میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے غذائی بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ ہے۔

اقوام متحدہ کے اداروں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ لبنان میں انسانی بحران کو روکنے کے لیے فوری امدادی اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بروقت مدد نہ ملنے کی صورت میں لاکھوں افراد قحط جیسی صورتحال کا سامنا کر سکتے ہیں، جو خطے کے لیے ایک بڑے انسانی المیے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

Share this content: