راولاکوٹ / پلندری /کاشگل نیوز/خصوصی رپورٹ
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری شدید کشیدگی کے دوران اب پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے خطے کی مکمل معاشی اور غذائی ناکہ بندی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ پنجاب سے آزاد کشمیر میں داخل ہونے والے تمام اہم انٹری پوائنٹس پر پاکستانی سکیورٹی فورسز اور پولیس چوکیوں کا قبضہ ہے، جہاں سے بنیادی اشیائے خوردونوش اور ادویات کی سپلائی کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، پنجاب کی حدود سے کشمیر میں داخل ہونے والی آٹے، سبزی، فروٹ، دودھ، ادویات اور دیگر اشیائے خوردونوش سے بھری گاڑیوں کو انٹری پوائنٹس پر روک دیا گیا ہے اور مبینہ طور پر ان گاڑیوں سے سامان لوٹا جا رہا ہے۔
خارجی راستوں کے ساتھ ساتھ داخلی سطح پر بھی ناکہ بندی سخت کر دی گئی ہے۔ پلندری سے راولاکوٹ دھرنے کے شرکاء کے لیے لایا جانے والا رات کا کھانا ‘گڑالہ’ کے مقام پر پولیس اور سکیورٹی فورسز نے روک دیا اور اسے آگے لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، خطے میں اب خارجی اور داخلی دونوں سطحوں پر عوام تک کھانا پہنچانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
گھروں کی چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے لوگوں کو گمشدہ کرنے، ہسپتالوں میں فائرنگ، زخمیوں کو طبعی امداد سے محروم رکھنے، شہداء کی لاشوں پر قبضہ کرنے جیسے جنگی جرائم کی تو پہلے ہی سیکورٹی فورسز مرتکب ہو رہی ہیں اب خوراک کی بندش جیسا انتہا درجے کا جرم بھی شروع کر دیا گیا ہے لڑائی مکمل طور پر حسینیت اور یزیدیت کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گھروں کی چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنے، شہریوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے، ہسپتالوں کے اندر فائرنگ، زخمیوں کو طبی امداد سے محروم رکھنے اور شہداء کی لاشوں پر قبضہ کرنے جیسے مبینہ جنگی جرائم کے بعد اب پاکستانی فورسز نے خوراک کی بندش جیسا انتہا درجے کا جرم بھی شروع کر دیا گیا ہے، لڑائی مکمل طور پر حسینیت اور یزیدیت کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔
تحریک سے وابستہ حلقوں نے مقامی پولیس ملازمین کو غیرت کا واسطہ دیتے ہوئے اپیل کی ہے کہ "وقت آ گیا ہے کہ لوکل پولیس ملازمین کو اپنے ہی محنت کش طبقے اور معصوم عوام کی خوراک روکنے کے اس گھٹیا عمل کا حصہ بننے کے بجائے، فوری طور پر اجتماعی استعفے دے کر عوامی جدوجہد کا حصہ بن جانا چاہیے۔ اس سے زیادہ شرمناک بات کوئی نہیں ہو سکتی کہ مقامی فورسز اپنے ہی لوگوں کی معاشی ناکہ بندی کا سبب بنیں۔”
خوراک کی ممکنہ قلت سے نمٹنے اور عوام کو بچانے کے لیے عوامی تحریک کی قیادت کے سامنے درج ذیل دو اہم اور فوری آپشنز رکھنے کی تجویز دی گئی ہے:
اقوامِ متحدہ اور ریڈ کریسنٹ سے ہنگامی رابطہ: ابتدائی آپشن کے طور پر دھرنوں سے ہی ‘ریڈ کریسنٹ’ (Red Crescent) اور اقوامِ متحدہ (UN) سے یہ متبادل مانگ کی جائے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی خوراک بند کر دی گئی ہے، لہذا بین الاقوامی ادارے یہاں خوراک کی دستیابی کو ہر صورت یقینی بنائیں۔
قدرتی راستے کھولنے کا مطالبہ: وفاق پر انحصار ختم کرنے کے لیے ریاست جموں کشمیر کے تمام روایتی اور قدرتی راستے کھولنے کا مطالبہ کیا جائے، تاکہ اندرونِ ریاست پونچھ، جموں اور وادی (کشمیر کے دیگر حصوں) سے اشیائے خوردونوش کی آزادانہ تجارت شروع کی جا سکے۔
عوامی حلقوں نے زور دیا ہے کہ خوراک کی قلت کے اس بڑے انسانی المیے سے عوام کو بچانا سب کا اجتماعی فریضہ ہے، کیونکہ اس وقت پالا انتہائی گھٹیا اور جابرانہ قوتوں سے پڑ چکا ہے، جس کے خلاف فوری اور وقت پر متبادل اقدامات اٹھانا ناگزیر ہے۔
Share this content:


