راولاکوٹ /کاشگل نیوز
پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر بھر میں جاری شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال نویں روز بھی مکمل طور پر جاری ہے۔ مختلف اضلاع، تحصیلوں اور اہم شاہراہوں پر معمولاتِ زندگی متاثر ہیں۔ پورے جموں و کشمیر کے دس اضلاع میں مکمل پہیہ جام و شٹر ڈاون ہے۔ جبکہ عوام کی بڑی تعداد احتجاجی دھرنوں میں شریک ہو کر اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کررہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق دریک، متیالمرہ، شجاع آباد روٹ اور پانیولہ کے مقامات پر قائم احتجاجی دھرنوں میں عوام کا جمِ غفیر موجود ہے۔
مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کے تسلیم شدہ مطالبات پر فوری عملدرآمد کیا جائے اور مسائل کے مستقل حل کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں۔
احتجاجی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عوامی تحریک اپنے شہداء کے مشن کو ہر صورت جاری رکھے گی اور ان کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے بنیادی حقوق اور مسائل کے حل تک احتجاجی سلسلہ جاری رہے گا۔
مقررین نے بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں کی کوششوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ اوورسیز کشمیری سفارتی محاذ پر کشمیر کے سفیر کا کردار ادا کر رہے ہیں اور عالمی سطح پر کشمیری عوام کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں مقیم کشمیری برادری کی حمایت تحریک کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہو رہی ہے۔
احتجاجی رہنماؤں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکمران طبقہ عوامی مسائل کو نظر انداز کرنے کے بجائے اپنی ترجیحات کا ازسرِنو تعین کرے اور عوامی مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے ان پر فوری عملدرآمد یقینی بنائے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں عوام کے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے اور مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔
جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ بھی مکمل طور پہ معطل ہے۔
احتجاجی دھرنوں کے شرکاء نے عزم ظاہر کیا کہ مطالبات کی منظوری تک پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
Share this content:


