راولاکوٹ/ کاشگل نیوز
پاکستان زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران مختلف عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ پاکستان سے آنے والی اشیائے خوردونوش، ادویات، خشک دودھ اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق کشمیر میں داخل ہونے والے مختلف انٹری پوائنٹس پر پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے سخت چیکنگ اور ناکہ بندی جاری ہے، جس کے باعث پنجاب اور دیگر علاقوں سے آنے والی سامان بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے۔
بعض مقامی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ آٹا، سبزیاں، پھل، دودھ، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء لے جانے والی متعدد گاڑیوں کو مختلف چوکیوں پر روک دیا گیا۔
مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ احتجاجی دھرنوں میں شریک افراد کے لیے پلندری سے لے جایا جانے والا کھانا گڑالہ کے مقام پر روک لیا گیا اور اسے آگے لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان الزامات کے بعد مختلف علاقوں میں عوامی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے اور خوراک و ادویات کی ممکنہ قلت کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب احتجاجی قیادت اور بعض سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی بنیادوں پر خوراک اور ادویات کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ضروری اشیاء کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے تو متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ عام شہری مشکلات سے محفوظ رہ سکیں۔
احتجاجی رہنماؤں نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ انسانی امداد کی فراہمی کے لیے بین الاقوامی فلاحی اداروں اور امدادی تنظیموں سے رابطہ کیا جائے، جبکہ ریاست کے اندر مختلف تجارتی راستوں کو کھولنے کے امکانات پر بھی غور کیا جائے تاکہ اشیائے ضروریہ کی دستیابی برقرار رکھی جا سکے۔
Share this content:


