معاہدہ بارل 20 دسمبر 1956 ۔۔۔۔۔ محمد رشید خان

یکم جنوری 1949 معاہدہ جنگ بندی کے بعد پاکستان اور پاکستان زیر انتظام کشمیر کے صدر سردار محمد ابراہیم خان کے درمیان اختلافات شروع ہوئے ۔سردار محمد ابراھیم خان نے معاہدہ جنگ بندی سے انکار کر دیا تھا، سردار صاحب چاہتے تھے کشمیر کی مکمل آزادی تک جنگ بندی نہ ہو مگر پاکستان کے حکمرانوں نے صدر آزاد کشمیر کی کسی بات پر کوئی توجہ دیے بغیر بھارت سے معاہدہ جنگ بندی کر لیا اس کے بعد معاہدہ کراچی صدر آزاد کشمیر کی مرضی کے خلاف نے سردار ابراھیم اور حکومت پاکستان کے درمیان مزید اختلافات پیدا کر دیے جس کے باعث حکومت پاکستان نے سردار ابراھیم کو 21 مئی 1950 کو صدارت آزاد کشمیر سے معطل کر دیا۔

سردار ابرھیم کا رد عمل

سردار ابراھیم نے پاکستانی حکومت کے اس غیر جمہوری اقدام پر آزاد کشمیر میں جمہوریت کی تحریک شروع کر دی جو بل آخر مسلح بغاوت میں تبدیل ہو گئی جس کے بعد آزاد کشمیر حکومت مفلوج ہو کر رہ گئی۔ سردار ابراھیم کے قبیلے کے لوگوں نے آزاد کشمیر سے تمام پولیس چوکیاں ختم کر دیں جس کے بعد سردار ابراھیم خان نے ملوٹ آزاد کشمیر کے مقام پر اپنی حکومت کا اعلان کر دیا۔

پی سی پاک سرچ آپریشن

آزاد کشمیر میں سدوزئیوں کی اس بغاوت پر حکومت پاکستان کو فوجی آپریشن کرنا پڑا جو پاک فوج کی تاریخ کا اندورن پاکستان سب سے پہلا آپریشن تھا اس آپریشن کا نام پی سی پاک سرچ سدھن آپریشن رکھا کر بریگیڈئیر رضا خان کو ایک بریگیڈ فوج دے کر پی سی پاک سرچ آپریشن شروع کیا۔

پی سی پاک سرچ سدھن آپریشن کا جانی نقصان

پی سی پاک سرچ آپریشن میں 600 سو سدھن سدوزئی شہید ہو گئے 2000 زخمی اور 3000 ہزار گرفتار ہوئے، پاک فوج کے 400 سو فوجی مارے گے 1000 ہزار سے زیادہ زخمی اور 220 اغواء ہوئے جن میں جنرل اے ایم جی عثمانی بھی شامل تھے جنرل عثمانی بعد یکم جنوری 1972 بنگلہ دیش کے پہلے چیف آف آرمی سٹاف بھی بنے تھے جنھیں پی سی پاک سرچ سدھن آپریشن میں کچھ باغی قیدیوں کے تبادلے میں چھوڑ دیا گیا تھا ۔۔۔۔

سردار ابرھیم سے مذاکرات

سردار ابراھیم اور حکومت پاکستان کے درمیان 4 اپریل 1952 کو مذاکرات ہوئے جس کے بعد 10 سدوزئی گرپوں نے ہتھیار ڈال کر حکومت پاکستان سے صلح صفائی کر لی مگر سدھنوتی بارل کے پانچ سدوزئی گروپ جن کی کمان غازی شیر دل خان کر رہے تھے انھوں نے 1950 سے 20 ستمبر 1956 تک نہ ہھتیار ڈالے نہ کسی صلح پر آمادہ ہوئے۔

٭٭٭

Share this content: